تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 216

خاص کافر بھی ہو سکتے ہیں اور سارے کافر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ہوں یا بعد کے زمانہ کے وہ بھی مراد ہو سکتے ہیں اور جیسا کہ اوپر کے نوٹ سے ظاہر ہے اس جگہ دونوں ہی باتیں بیان کی گئی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے کفار کو بھی مخاطب کیا گیا ہے اور آپ کے زمانہ کے بعد آنے والے کفار کو بھی مخاطب کیا گیا ہے اور مکہ کے کفار کو بھی مخاطب کیا گیا ہے اور عیسائیوں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی مخاطب کیا گیا ہے جن کا زور آخری زمانہ میںہونا تھا۔پس اس آیت میں اَلْکٰفِرُوْنَ کے دونوں ہی معنے ہیں یہ بھی معنے ہیں کہ اے مکہ کے کافرو! میں تم سے مخاطب ہو کر یہ بات کہتا ہوں اور یہ معنے بھی ہیں کہ اے قیامت تک کے کفار! خصوصاً زمانہ آخر کے کفار! جن کے زمانہ میں پھر اسلام کمزور ہو کر ان کے رحم و کرم تلے آچکا ہوگا میں تم سے مخاطب ہو کر یہ بات کہتا ہوں۔لفظ قُلْ کہنے میں حکمت قُلْ کے لفظ سے اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ تُو ان لوگوں کو مخاطب کر کے یہ کہہ دے۔حالانکہ اس آیت کے الفاظ وسیع ہیں اور اس میں مخاطب آئندہ زمانہ کے لوگ بھی ہیں۔صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگ مراد نہیں ہیں۔اس سے اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شخصیت بروزی طور پر بار بار دنیا میں ظاہر ہوگی۔اگر خدا تعالیٰ بندوں سے خطاب کرتا تب تو اور بات تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا کہ تُو ہر زمانہ کے لوگوں سے یہ کہہ دے یہ ایک واضح اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ ہر زمانہ میں دنیا میں ظاہر ہوتی رہے گی۔کبھی چھوٹے پیمانہ پر کبھی بڑے پیمانہ پر۔اسی کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اشارہ فرمایا ہے کہ اِنَّ اللہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَأْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُّـجَدِّدُ لَھَا دِینَـھَا(ابوداؤد کتاب الملاحـم باب ما یذکر فی قرن المائۃ) یعنی اللہ تعالیٰ میری امت میں ہر سو سال کے بعد کوئی نہ کوئی شخص ایسا مبعوث کرے گا جو اس صدی کی غلطیوں کو جو کہ دین کے بارہ میں لوگوں کو لگ گئی ہوں گی دور کر دے گا۔یہ قُلْ بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔گویا اس حدیث کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کم سے کم ہر صدی کے سر پر دنیا میں ظاہر ہوں گے اور وہ لوگ جو آپ کے بتائے ہوئے رستہ کے خلاف چلنے والے ہوں گے ان کو چیلنج کریں گے کہ میں تمہارے طریق کو کبھی اختیار نہیں کروںگا اور اسی طریق کو اختیار کروں گا جو خدا نے مجھے بتایا ہے اور اس طرح اسلام ہر زمانہ میں دُھل دُھلا کر پھر نیا بن جایا کرے گا۔مسیحؑ اور مہدی کے زمانہ میں یہ بات زیادہ نمایاں طور پر ہونے والی ہے کیونکہ اس زمانہ کے متعلق بہت بڑے فتنوں کی پیشگوئی ہے یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مَا بُعِثَ نَبِیٌّ اِلَّا قَدْ اَنْذَرَ اُمَّتَہُ الدَّجَّالَ (ابو داؤد کتاب الملاحـم باب خروج الدجال ) یعنی جب سے دنیا پیدا