تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 211
اور کچھ اور بڑے بڑے آدمی آئے۔میں نے ان کے سامنے یہی سوال رکھا اور کہا کہ کیا آپ لوگ اس لباس کو ذلیل سمجھتے ہیں؟ جیسا کہ یوروپین تہذیب ہے انہوں نے کہا نہیں نہیں یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ہم آپ کے لباس کو بڑا اچھا سمجھتے ہیں۔میں نے سمجھ لیا کہ محض مغربی تہذیب کے نتیجہ میں یہ ایسا کہہ رہے ہیں۔ان کے دل میں یہ بات نہیں۔میں نے پھر اصرار سے کہا کہ آپ میرے دوست ہیں سچ سچ بتائیے کہ آپ کی قوم پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ سچی بات تو یہی ہے کہ ہمارے ملک کے لوگ اس لباس میں لوگوں کے سامنے آنے کو برا سمجھتے ہیں اور اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔سر ڈینی سن راس علی گڑھ اور کلکتہ میں بھی پروفیسر رہ چکے تھے۔میںنے ان سے پوچھا کہ سر ڈینی سن آپ یہ بتائیے کہ جب آپ ہمارے ملک میں تھے تو کیا سلوار یا دھوتی پہنا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں۔میں نے کہا تو پھر آپ یہ بتائیں کہ آ پ ہمارے ملک میں جا کر اپنا ہی لبا س رکھیں تو حرج نہیں اور ہم آپ کے ملک میں آکر اپنا لباس رکھیں تو یہ بری بات ہے۔کیا اس کے یہ معنے نہیں بنتے کہ آپ اپنی قوم کو بڑا سمجھتے ہیں اور ہماری قوم کو ذلیل سمجھتے ہیں۔اس لئے آپ ہم سے وہ مطالبہ کرتے ہیں جس مطالبہ کو انہی حالات میں آپ پورا کرنے کے لئے تیار نہیں۔اور جب یہ بات ہے تو ایک ہندوستانی کی قومی غیرت کب برداشت کر سکتی ہے کہ وہ آپ کو خوش کرنے کے لئے اپنے لباس کو بدل لے۔پھر میں نے ان سے کہا کہ سچ سچ بتائیے جب ایک ہندوستانی کوٹ اور پتلون پہنتا ہے تو آپ کا دل خوش نہیں ہوتا کہ اس نے ہماری قومی برتری کو تسلیم کر لیا ہے اور ہمارے لباس کو اختیار کر لیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ معین صورت میں یہ خیال آئے یا نہ آئے لیکن دماغ کے پسِ پردہ تو یہ خیال ضرور ہوتا ہوگا اور ہوتا ہے۔میں نے کہا اس سے دوسرے لفظوں میں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص اپنا لباس آپ کے ملک میں نہیں چھوڑتا آپ کو اس پر غصہ بھی آتا ہے۔آپ اپنی ہتک بھی محسوس کرتے ہیں۔لیکن آپ کے دماغ کے پس پردہ یہ خیال بھی رہتا ہے کہ یہ شخص ہم سے اور ہماری تہذیب سے ڈرا نہیں۔اس پر وہ کچھ کھسیانے سے ہو کر کہنے لگے کہ بات تو ٹھیک ہے۔تب میں نے ان سے کہا کہ میں ہندوستان سے چلتے ہوئے یہاں کی سردی کا خیال کر کے گرم کپڑے کے ایسے پاجامے سلوا کر اپنے ساتھ لایا تھا جو علی گڑھ فیشن کے ساتھ ملتے تھے۔وہ دیکھنے میں پتلون نما معلوم ہوتے ہیں گو ان کے اندر ازار بند استعمال ہوتا ہے لیکن اب میں وہ کپڑے نہیں پہنوں گا اور اسی طرح واپس لے جاؤں گا کیونکہ میں انگریز کے ہندوستان پر حاکم ہوجانے کی وجہ سے نہ اپنے ملک کے لوگوں کو انگریز سے کمتر سمجھتا ہوں اور نہ اپنے ملک کی تہذیب کو اس کی تہذیب سے کمتر سمجھتا ہوں اور انگریزی تہذیب اور اس کے تمدن کی نقل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔