تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 210

راوی کی غلطی ہے اور مراد یہ ہے کہ الکافرون سمیت چھ یا الکافرون کو نکال کر اس کے بعد کی پانچ سورتیں۔پھر آپ نے فرمایا جب پڑھنا شروع کرو تو بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پڑھ کر تلاوت شروع کیا کرو (یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ہر سورۃ کا حصہ ہے ) جبیرؓ کہتے ہیں کہ میں مال دار نہ تھا اور جب میں سفر کرتا تھا تو سب ساتھیوں سے برا حال میرا ہوتا تھا۔اور سب سے کم زاد میرے پاس ہوتا تھا۔مگراس کے بعد ان سورتوں کی برکت کی وجہ سے میرا حال سب ساتھیوں سے اچھا ہو گیا اور سب سے زیادہ زاد میرے پاس ہوتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم کی سورتوں کے پڑھنے میں برکات ہیں۔جو شخص قرآن کریم پڑھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل نازل کرتا ہے مگر اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ ان سورتوں میں زیادہ تر غیر مذاہب کا مقابلہ ہے اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور مصائب کے وقت میں استقلال قائم رکھنے کی تلقین ہے اور توحید پر زور دیا گیا ہے اور باہمی لڑائی اور جھگڑے سے روکا گیا ہے۔اور جب انسان ان مضامین کو بار بار اپنے ذہن میں لاتا ہے تو اس کے اندر یہ خصلتیں بھی پیدا ہو جاتی ہیں اور ان خصلتوں کی وقعت اور اہمیت بھی اس پر ثابت ہوتی چلی جاتی ہے۔اور جب وہ ان خصلتوں پر عمل کرتا ہے تو غیروں کی نگاہ میں معزز ہو جاتا ہے اور اپنوں کی نگاہ میں اتحاد کا باعث بن جاتا ہے جب بھی غیر دیکھیں کہ یہ شخص ہمارے حالات سے مرعوب ہو گیا ہے تو ان کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں اور اس کی قوم کی عزت ان کی نظروں سے گر جاتی ہے۔۱۹۲۴ء میں مَیں انگلستان تبلیغِ اسلام کے مواقع دیکھنے کے لئے گیا تھا۔میں نے اس وقت وہی لباس پہنے رکھا جو میں ہندوستان میں پہنتا تھا اور یوروپین لوگ نہ صرف یہ کہ اس لباس کو ذلیل سمجھتے ہیں بلکہ چونکہ ان کا رات کا لباس ایسا کھلا ہوتا ہے جیسے ہماری قمیص اور سلوار۔اس لئے وہ ہماری قمیص اور سلوار کو رات کا لباس سمجھتے ہیں۔یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ ہمیں اس لباس میں ننگا سمجھتے ہیں کیونکہ وہ رات کے لباس میں دوسروں کے سامنے نہیں آتے۔ایک دن ہمارے مبلغ انچارج میرے پاس آئے اور بڑی تشویش سے کہنے لگے کہ آپ کے اس لباس کی وجہ سے یہاں لوگوں کو بہت ٹھوکر لگ رہی ہے۔آپ اگر پتلون نہیں پہن سکتے تو کم سے کم علی گڑھ فیشن کا گرم پاجامہ پہن لیں اور قمیص کو اس کے اندر ٹھونس لیا کریں۔میں نے ان سے پوچھا کہ آخر میں ایسا کیوں کروں۔ان لوگوں کو میرے قومی لباس پر اعتراض کرنے کا حق کیا ہے؟مبلغ صاحب نے کہا کہ حق ہو یانہ ہو بہر حال اس سے بہت برا اثر پڑتا ہے اور ہماری قومی تحقیر ہوتی ہے۔اسی دن مجھ سے ملنے کے لئے لنڈن کے اورینٹل کالج کے پرنسپل۱ سر ڈینی سن راس