تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 209
طبرانی اور ابو یعلیٰ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ’’قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلَا اَدُلُّکُمْ عَلٰی کَلِمَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِنَ الْاِشْـرَاکِ بِاللہِ تَقْرَءُوْنَ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ عِنْدَ مَنَامِکُمْ ‘‘یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تم کو اللہ تعالیٰ کے شرک سے بالکل بچا لے۔وہ بات یہ ہے کہ سوتے وقت تم قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ پڑھو۔یہ حدیث بھی میرے اوپر کے استدلال کی تائید کرتی ہے۔ابن مردویہ نے زید بن علقم سے روایت کی ہے کہ جو شخص دو۲سورتیں لے کر خدا تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو گا اس سے کوئی حساب نہیں لیاجائے گااور وہ دو سورتیں قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ اور قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ہیں(فتـح البیان تعارف سورۃ الکافـرون)۔اس حدیث کا بھی یہی مطلب ہے کہ جو شخص توحید پر قائم ہو گا اور استقلال سے اس پر قائم رہے گا جو ان دونوں سورتوں کا مضمون ہے تو وہ ہر ایک حساب سے بالا ہو گا۔طبرانی، بزار اور ابن مردویہ نے خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب لیٹتے تو قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ پڑھا کرتے تھے(فتـح البیان تعارف سورۃ الکافـرون) (یعنی ساری سورۃ)اور ایسا کبھی بھی نہیں ہوتا تھا کہ آپ لیٹیں اور قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ کی ساری کی ساری سورۃ نہ پڑھیں۔صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ اور قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ کی دونوں سورتیں طواف کی دونوں رکعتوں میں بھی پڑھا کرتے تھے۔مسندا حمد حنبل میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مہینہ پورا صبح کی دونوں رکعتوں میں قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ اور قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ پڑھتے دیکھا ہے۔اس سورۃ کے فضائل کے متعلق جُبیر بن مطعم سے بھی ایک روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَتُـحِبُّ یَاجُبَیْـرُ اِذَا خَرَجْتَ سَفْرًا اَنْ تَکُوْنَ اَمْثَلَ اَصْـحَابِکَ ھَیْئَۃً وَاَکْثَرَھُمْ زَادًا یعنی اے جبیرؓ کیا تم پسند کرتے ہو کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو اپنے ساتھیوں میں سے سب سے زیادہ شان تمہارے چہرہ سے ٹپک رہی ہو اور سب سے زیادہ زاد راہ تمہارے ساتھ ہو۔جبیر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہاں ! اس پر آپ نے فرمایا تب تم سفر میں یہ پانچ سورتیں پڑھا کرو یعنی سورۃ الکافرون سے لے کر قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ تک(کنزل العمال کتاب السفر باب اٰداب السفر )۔سورۃ الکافرون سے آخر تک چھ سورتیں ہیں پس یا تو پانچ کے یہ معنے ہیں کہ سورہ ٔ تَبَّتْ کو اس گنتی میں سے آپ نے نکال دیا ہے اور یا پھر الکافرون کے بعد کی سورتوں کو آپ نے پانچ قرار دیا ہے یا پانچ