تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 208
مسند احمد حنبل، مسند ابو داؤد اور سنن ترمذی اور سنن نسائی میں لکھا ہے۔نوفل بن معاویہ الاشجعی نے ایک دن کہایارسول اللہ مجھے وہ بات سکھائیے جو میں بستر پر لیٹتے وقت کہا کروں قَالَ اِقْرَاْ قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ ثُمَّ نَمْ عَلٰی خَاتِـمَتِـھَا فَاِنَّـھَابَرَاءَ ۃٌ مِّنَ الشِّـرْکِ(تـرمذی کتاب الدعوات باب ماجاء فیمن یقرأُ القراٰن عند المنام) آپ نے فرمایا قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ پڑھا کرو اور پھر اس کے آخری حصہ کو پڑھتے پڑھتے سو جایا کرو۔کیونکہ اس میں شرک سے بیزاری کا ذکر ہے۔اس حدیث سے بھی میرے اس استدلال کی تصدیق ہوتی ہے جو میں نے اوپر کیا ہے۔مومن کا یہ پختہ ارادہ کہ وہ کبھی بھی باطل کو قبول نہیں کرے گا اور خواہ کچھ ہوجائے وہ سچ کو نہیں چھوڑے گا ایک حیرت انگیزطاقت اس کے اندر پیدا کر دیتا ہے۔اگر اس کی بجائے لوگ یہ ارادہ کر لیں کہ ہم اپنے سابق خیالات یا اپنے باپ دادا کے خیالات کو نہیں چھوڑیں گے یامولویوں کے خیالات کو نہیں چھوڑیں گے تو پھر ان کی تباہی اور بربادی میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں رہتا۔اسی طرح اس حدیث سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان جن خیالات پر سوتا ہے وہ بہت مضبوطی کے ساتھ اس کے ذہن میں راسخ ہو جاتے ہیں۔اسلام ہی ہے جس نے یہ نکتہ سب سے پہلے بیان کیا ہے مگر مسلمان ہی ہیںجو اس نکتہ کو بھول گئے ہیں۔انسانی دماغ صرف اسی وقت کسی چیز کو نہیں سوچتا جب وہ اس کے کان میں کہی جاتی ہے بلکہ جب بھی وہ فارغ ہوتا ہے وہ اس پر عقلی جگالی کرتا رہتا ہے۔اسی وجہ سے بچہ کی پیدائش کے وقت اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنے کا شریعت نے حکم دیا ہے اور اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ جس وقت تم اپنے دنیوی کاموں سے فارغ ہو کر بستر پر لیٹو تو اور تمام باتوں کی طرف سے توجہ ہٹا کر کچھ دعائیں پڑھا کرو اور انہی کو سوچتے سوچتے سو جایا کرو۔اس میں اسی حکمت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ رات کے وقت انسان کا دماغ فارغ ہوتا ہے اس وقت وہ دن کی باتوں کو دہراتا ہے اور اسی وجہ سے بعض دفعہ ایسے واقعات کے متعلق انسان کو خواب آجاتے ہیں جو دن کے وقت اس نے دیکھے ہوئے ہوتے ہیں۔یا ایسے خیالات کے متعلق انسان کو رات کے وقت خواب آجاتے ہیں جو دن کے وقت اس کے دل میں گذرے ہوتے ہیں یا ایسے نظاروں کے متعلق اسے خواب آجاتے ہیں جو دن کے وقت اس کی آنکھوں کے سامنے سے گذرے ہوتے ہیں۔اگر انسان سوتے وقت بعض اعلیٰ قسم کی دعائیں اور تسبیح اور تحمید کے کلمات دہراتے ہوئے اور سوچتے ہوئے سو جائے تو یقیناً اس کے دماغ میں رات کے فارغ اوقات میں وہی خیالات اور وہی باتیں گھومتی رہیں گی۔نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک لمبے عرصہ تک ان خیالات کے دماغ میں گھومنے کی وجہ سے وہ جڑ پکڑ جائیں گے اور مضبوطی سے قائم ہو جائیں گے اور آسانی سے نکالے نہیں جا سکیں گے۔اور انسان کا ایمان مضبوط ہو جائے گا اور اس کو استقلال کی توفیق ملے گی۔