تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 206
سُورۃُ الْکَافِرُوْنَ مَکِّیَّۃٌ سورۂ کافرون۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ سَبْعُ اٰیَاتٍ مَّعَ الْبَسْمَلَۃِ اور بسم اللہ سمیت اس کی سات آیات ہیں سورۃ کافر ون مکی سورۃ ہے ابن مسعودؓ کے نزدیک سورۃ کافرون مکی ہے اور حسن اور عکرمہ بھی یہی کہتے ہیں۔ابن عباس اور قتادہ اور ضحاک اور ابن زبیر کہتے ہیں کہ یہ مدنی ہے(فتح البیان تعارف سورۃ الکافرون) ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اور مغرب کی نماز میں چوبیس ۲۴ دفعہ پڑھی ہے(مسند احـمد بن حنبل مسند عبد اللہ بن عـمر رضی اللہ عنہ)۔مسند احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دوسری کتب میں یہ حدیث بیان ہوئی ہے۔میرے نزدیک چوبیس سے مراد چوبیس نہیں بلکہ کثرت مراد ہے۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں کثرت سے فجر کی نماز میں لمبی سورتیں پڑھا کرتے تھے وہاں کبھی کبھی چھوٹی چھوٹی سورتیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔جیسے سورۃ کافرون اور قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ۔مسند حاکم میں ابی ابن کعبؓسے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر وتر کی تین رکعتوں میں سے پہلی میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى دوسری میں قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ اور تیسری میں قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ پڑھا کرتے تھے (المستدرک للحاکم کتاب التفسیر تفسیر سورۃ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ) سورۃ کافرون قرآن مجید کے چوتھے حصے کے برابر ہے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ قرآن شریف کے تیسرے حصہ کے برابر ہے اور قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ قرآن کے چوتھے حصہ کے برابر ہے(ترمذی ابواب فضائل القراٰن باب ماجاء فی اِذَا زُلْزِلَتِ۔۔۔۔۔۔) اور آپ کئی دفعہ صبح کی دو رکعتوں میں یہ دو سورتیں پڑھا کرتے تھے۔(یہ روایت طبرانی نے اپنی کتاب الاوسط میں نقل کی ہے ) اس حدیث کا بھی یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم کے تیسرے حصہ کے برابر قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ہے اور چوتھے حصہ کے برابر قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ ہے۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو باقی قرآن کے نازل ہونے کی