تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 205

اگر ابراہیم زندہ رہتا تو وہ ضرور نبی ہوتا۔یہاں علماء کو بہت مشکل پیش آئی ہے کیونکہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا تھا تو پھر آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔اس مشکل کو حل کرنے کے لئے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہر نبی کا بیٹا نبی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی اولاد کو اس لئے وفات دے دی کہ وہ نبی نہ ہو جائیں اور آیت خاتم النبیین پوری ہو۔مگر یہ درست نہیں۔اگر نبی کا بیٹا نبی ہوتا ہے تو دنیا کا ہر شخص نبی ہونا چاہیے کیونکہ تمام حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں اگر حضرت آدمؑ کو نبی نہ کہا جائے تب بھی دنیا میں نصف یا چوتھائی تو ضرور نبی ہونے چاہئیں۔کیونکہ اکثر بنی آدم حضرت نوح کی اولاد سے ہیں۔بلکہ بنی اسرائیل کی روایات کے مطابق تو ساری دنیا ہی حضرت نوحؑ کی اولاد سے ہے۔اسی طرح اگر یہ اصل درست ہے تو حضرت یعقوب علیہ السلام کی ساری اولاد کو نبی ہونا چاہیے تھا لیکن ہمیں تو ان میں وہ لوگ بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بیچ دیا۔اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے سامنے جھوٹ بولا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔پھر حضرت یوسف علیہ السلام کے بیٹے نبی کیوں نہ بنے۔بلکہ آپ کی وفات کے بعد تو یہ بات عام طور پر مشہور ہو گئی تھی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اگر آپ کی اولاد نے نبی بننا ہوتا تویہ کیوں کہا جاتا۔پس یہ کہنا کہ نبی کا بیٹا نبی ہوتا ہے واقعات کے خلاف ہے۔پھر بعض لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہونا تھا اور ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خیال تھا کہ اگر ابراہیم زندہ رہا تو نبی بن جائے گا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی تاکہ وہ نبی نہ بن سکیں مگر یہ بھی نہایت غیر معقول بات ہے کیونکہ جو چیز ہونی ہی نہ تھی اس کے لئے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے درست ہی نہیں ہو سکتے تھے۔آخر نبوت جبکہ طبعی امر نہیں بلکہ شرعی امر ہے اور اس کا دروازہ بند ہو چکا تھا تو پھر ابراہیم کس طرح نبی ہو سکتے تھے۔اگر خدا تعالیٰ کا یہ فیصلہ تھا کہ آپؐکے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو وہ نبی کسی طرح بن جاتے۔وہ خواہ زندہ بھی رہتے نبی نہیں بن سکتے تھے۔پس یہ بالکل غلط ہے کہ ابراہیم کو اس لئے وفات دی گئی کہ وہ کہیں نبی نہ بن جائیں۔بلکہ وہ قانون قدرت کے مطابق فوت ہو ئے اور پیشگوئی مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ بعد میں ظاہر ہونے والے واقعات کے مطابق تھی نہ کہ اس کو پورا کرنے کے لئے واقعات پیدا کئے گئے گوبعض دفعہ واقعات پیشگوئی کی خاطر پیدا بھی کئے جاتے ہیں۔بہر حال اس حدیث سے امکان نبوت ثابت ہے ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ کبھی نہ فرماتے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی بنتا۔