تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 17

فرمایا کہ جو کچھ تمہاری بیوی نے کہا درست ہے تو اس کا عکرمہؓ پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے کہا اگر آپ نے ایسا کہا ہے تو پھرمیں بھی کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے نبی کے سوا اور کوئی شخص ایسا کام نہیںکر سکتا اور میں آپ پر ایمان لاتا ہوں۔جب وہ ایمان لایا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب میرے خواب کی تعبیر مجھ پر کھل گئ ہے اور میں نے سمجھ لیا ہے کہ اس خوشے سے مراد یہ تھی کہ عکرمہ ایمان لے آئے گا(السیرۃ الـحلبیۃ فتح مکہ) گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنتی انگوروں کا ایک خوشہ دکھائی دیا مگر اس سے مراد ایمان تھا اور آپ کو ابو جہل دکھایا گیامگر اس سے مراد اس کابیٹا تھا اسی طرح ایک دفعہ آپؐنے رؤیا میں دیکھا کہ آپ کو دودھ دیا گیا جسے آپ نے پیٹ بھر کر پیا۔پھر حضرت عمر ؓ خواب میں آئے تو انہیں اپنا پس خوردہ دیا۔جسے انہوں نے بھی پیا۔آپ نے اس خواب کی تعبیر یہ کی کہ دودھ سے مراد علم ہے۔گویا خواب میں دودھ پینے سے مراد علم دین کا میسر آجاناہوتا ہے۔(بخاری کتاب التعبیر باب اللبن) ان مثالوں سے ظاہر ہے کہ اگلے جہاں کے نعماء کی کیا حقیقت ہے۔اللہ تعالیٰ ایک طرف تو یہ فرماتا ہے کہ لَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ (السجدۃ:۱۸) کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کے لئے اگلے جہان میں کیا کچھ رکھا گیا ہے جس سے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہو گی اور دوسری طرف فرماتا ہے وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا کہ انہیں دنیا میں جو چیزیں ملتی تھیں ان کے مشابہ چیزیں اگلے جہان میں دی جائیں گی۔گویا پہلی آیت کی خود ہی تردید کر دی پھر احادیث میں بھی آتا ہےکہ جنت کی نعماء ایسی ہوں گی کہ لَا عَیْنٌ رَّأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَـمِعَتْ وَلَا خَطَرَعَلٰی قَلْبِ بَشَـرٍ (بخاری ابواب التفسیر ) نہ تو کسی آنکھ نے انہیں دیکھا ہے نہ کسی کان نے انہیں سنا ہے اور نہ ہی دل کے کسی گوشہ میں اس کا تصور آسکتا ہے۔جب وہ ایسی مخفی چیزیں ہیں تو پھر اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا کےکیا معنے ہوئے؟ اس کے وہی معنے ہیں جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔یعنی اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنت میں دنیا کی چیزوں کے مشابہ چیزیں مومنوں کو ملیں گی۔بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ دنیامیں جو روحانی نعمتیں انہیں ملتی رہی ہیں وہی اگلے جہان میں مختلف پھلوں کی شکل میں متشکل ہو کر ان کے سامنے آجائیں گی جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے رؤیا میں ایمان کو انگور کے خوشہ کی شکل میں دیکھا یا آپ نے روحانی علم کو دودھ کی صورت میں دیکھا۔اسی طرح وہاں روحانی انگور کھانے سے ایمان میں ترقی ہو گی( اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانیٔ سلسلۂ احمدیہ نے نہایت لطافت سے اپنی کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ میں بیان فرمایا ہے فجزاہ اللہ احسن الجزاء) اسی طرح روحانی دودھ پینے سےانتڑیوں میں نفخ پیدا نہیں ہو گا بلکہ علم دین ترقی کرے گا اور روحانیت میں اضافہ ہو گا بہر حال قرآنی آیات بتاتی ہیں کہ اگلے جہان میں انسان کو جو کچھ نعمتیں ملیں گی وہ سب کی سب اس جہان کی روحانی نعماء