تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 204

تھا۔(۴)وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زند ہ آسمان پر ہونے کے قائل نہ تھے۔تبھی آپ یہ نہیں کہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔بلکہ آپ یہ فرماتے ہیں کُنَّا نُـحَدِّثُ اَنَّ عِیْسیٰ عَلَیہِ السَّلَامُ خَارِجٌ۔ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ وہ زمین سے ظاہر ہوں گے معلوم ہوتا ہے ان کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں مگر وہ پھر زندہ کر کے واپس بھجوائے جائیں گے اس لئے انہوں نے نَازِلٌ مِّنَ السَّمَاءِ نہیں کہا بلکہ خَارِجٌکا لفظ استعمال کیا ہے۔تیسری روایت ابن الانباری نے کتاب المصاحف میں بیان کی ہے کہ عبد الرحمان اسلمی کہتے ہیں کُنْتُ اُقْرِءُ الْـحَسَنَ وَالْـحُسَینَ میں حضرت حسن اور حسین کو قرآن کریم پڑھانے پر مقرر کیا گیا تھا فَمَرَّ بِیْ عَلِیٌّ ابْنُ اَبِیْ طَالِبٍؓ ایک دن میرے پاس سے حضرت علی ابن ابی طالبؓ گذرے اَنَا اُقْرِءُھُمَا خَاتِمَ النَّبِیِّیْنَ بِکَسْـرِ التَّاءِ۔اور میں انہیں خاتم النبیین بکسر التاء پڑھا رہا تھا جس کے معنے ختم کرنے والے کے ہوتے ہیں فَقَالَ لِیْ اَقْرِئْـھُمَا وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ بِفَتْحِ التَّائِ وَ اللہُ الْمُوَفِّقُ۔حضرت علی ؓ نے یہ سن کر فرمایا تم میرے بیٹوں کو خاتم النبیین بکسر التاء نہ پڑھاؤ بلکہ بفتح التاء پڑھاؤ اللہ توفیق عطا فرمائے۔یہ حضرت علی ؓ کا فتویٰ ہے کہ خاتم النبیین کی بکسر التاء والی قرأت بفتح التاء والی قرأت کے تابع ہے۔لیکن علماء کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کی بفتح التاء والی قرأت بکسر التاء والی قرأت کے تابع ہے اگر خاتم کے وہ معنے ہوتے جو علماء لیتے ہیں تو حضرت علی ؓ کو تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ عبد الرحمان اسلمی آپ کے بیٹوں کو بکسر التاء پڑھا رہے ہیں مگر آپ فرماتے ہیں میرے بیٹوں کو بکسر التاء نہ پڑھاؤبفتح التاء پڑھاؤ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ کے نزدیک خاتم النبیین بفتح التاء کے الفاظ زیادہ محفوظ تھے۔یوں بکسر التاء بھی جائز ہے لیکن چونکہ اس سے ڈر ہو سکتا تھا کہ کہیں حضرت حسنؓاور حضرت حسینؓیہ نہ سمجھ لیں کہ آپ کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گاخواہ وہ آپ کا شاگرد ہی کیوں نہ ہو۔اس لئے آپ نے استاد سے کہا کہ میرے بیٹوں کو بفتح التاء پڑھاؤ بکسر التاء نہ پڑھاؤ۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی ؓ کے نزدیک خاتم النبیین کے وہ معنے نہیں تھے جو بکسر التاء سے نکلتے ہیں یعنی نبیوں کو ختم کرنے والا۔ورنہ آپ بکسر التاء پڑھانے سے استاد کو منع نہ فرماتے۔چوتھی حدیث جس سے اس پر روشنی پڑتی ہے یہ ہے۔ابن ماجہ اور ابن مندہ میں روایت درج ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓنے بیان کیا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم فوت ہوئے تو آپ نے فرمایا لَوْ عَاشَ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا (ابن ماجۃ کتاب الـجنائز باب ماجاء فی الصلٰوۃ علی ابن رسول اللہ و ذکر وفاتہ)