تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 203
حضرت عائشہ ؓ کا لوگوں کو لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کہنے سے روکنا تاکہ وہ کسی غلط عقیدہ پر قائم نہ ہو جائیں بالکل ویسا ہی ہے جیسے احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ اٹھ کر کہیں باہر تشریف لے گئے اور آپ کو واپس آنے میں بہت دیر ہو گئی۔صحابہ ؓ گھبرائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تشریف لے گئے ہیں۔ان دنوں شام کی طرف سے خطرہ تھا کہ کہیں عیسائی مدینہ پر حملہ نہ کر دیں۔اس لئے صحابہ ؓ کے دلوں میں خیال پیدا ہوا کہ کہیں دشمن نے حملہ نہ کر دیا ہو چنانچہ وہ ادھر اُدھر آپ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں آپ کی تلاش کرتے کرتے ایک باغ کی طرف چلا گیا۔دیکھا تو اس کا بڑا دروازہ بند تھا۔مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اور میں بلی کی طرح ایک سوراخ میں سے اندر گھس گیا۔دیکھا تو وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔میں نے کہا یا رسول اللہ ہم تو بہت گھبرا گئے تھے کہ نہ معلوم آپ کہاں تشریف لے گئے ہیں۔اب آپ کو دیکھا ہے تو جان میں جان آئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابو ہریرہ ؓ جاؤ اور جو بھی تم سے ملے اسے کہو مَنْ قَالَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْـجَنَّۃَ۔جو بھی لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہے گا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔حضرت ابو ہریرہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ۔اتنی بڑی بات کون مانے گا آپ مجھے اپنی کوئی نشانی دے دیں۔آپ نے اپنی جوتیاں انہیں دےدیں۔جب وہ دروازے سے نکلے تو حضرت عمر ؓ آرہے تھے۔حضرت ابو ہریرہ ؓ نے انہیں دیکھتے ہی کہا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہے کہ مجھے جو بھی ملے میں اسے یہ خوشخبری سنا دوں کہ مَنْ قَالَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْـجَنَّۃَ۔حضرت عمر ؓ نے یہ سنتے ہی ان کے سینہ پر زور سے ہاتھ مارا اور فرمایا تم لوگوں کا ایمان خرا ب کرنا چاہتے ہو۔حضرت ابو ہریرہ ؓ دوڑے دوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور عرض کیا یا رسول اللہ مجھے تو عمر ؓ نے مار ڈالا۔آپ ہی نے فرمایا تھا کہ جو تم سے ملے اسے کہہ دو کہ مَنْ قَالَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْـجَنَّۃَ۔مگر عمر ؓ سے میں نے کہا تو انہوں نے مجھے تھپڑ مارا۔اتنے میں حضرت عمر ؓ بھی تشریف لے آئے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ کیا آپ نے ایسا فرمایا ہے کہ جو لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہے گا جنت میں داخل ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں۔حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ اس طرح تو کمزور لوگ عمل چھوڑ دیں گے۔آپ نے فرمایا بہت اچھا اعلان روک دو(مسلم کتاب الایـمان باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الـجنۃ قطعًا)۔گویا خود ہی ایک بات کہی اور پھر خود ہی فرما دیا کہ اس کی اشاعت نہ کرو۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ خوشخبری حضرت عمر ؓ کے متعلق ہی تھی اور چونکہ یہ بات ان کو پہنچ گئی اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اور لوگوں کو یہ بات نہ کہو مگر یہ درست نہیں۔درحقیقت اس کا مخاطب ہر مومن تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ جو شخص سچے دل سے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہے اور پھر اس پر عمل کرے وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص خدا کو بھی مانے اور پھر اس کے احکام پر عمل بھی نہ کرے اس کا مطلب یہی تھا کہ اگر کوئی شخص صدق نیت اور اخلاص کے ساتھ یہ کلمہ کہے تو وہ ضرور جنتی ہو گا۔یہ مطلب نہیں تھا کہ صرف منہ سے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہہ دینے سے انسان جنت میں چلا جاتاہے جیسے آج کل مسلمان خیال کرتے ہیں کہ منہ سے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہہ دیا تو پھر کسی عمل کی ضرورت نہیں۔بہر حال لوگوں کی غلط فہمی کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے حضرت عمر ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اس خیال کا اظہار کیا کہ یا رسول اللہ لوگ نقلی معنوں کو لے لیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اب کسی عمل کی ضرورت نہیں۔اس پر آپ نے خود ہی اس سے روک دیا۔اسی طرح حضرت عائشہ ؓ نے بھی خیال کیا کہ کہیں لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ سے لوگ یہ نہ سمجھ لیں کہ اسلام میں بڑے آدمی پیدا ہی نہیں ہوں گے اور نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے۔چنانچہ آپ نے لَا نَبِیَّ بَعْدِی کہنے سے روک دیا اور خَاتَمَ النَّبِیِّیْن چونکہ قرآن کریم کا لفظ تھا اور اس سے کوئی دھوکا نہیں لگ سکتا تھا آپ نے فرمایا تم خاتم النبیین بے شک کہو مگر یہ مت کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ ؓ یقین رکھتی تھیں کہ کلی طور پر نبوت کا انقطاع تسلیم کرنا اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ورنہ اگر ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہوتا تو پھر آپ کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ لَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ حالانکہ یہ الفاظ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔آپ نے اسی لئے یہ کہا کہ آپ کے نزدیک خاتم النبیین کے الفاظ زیادہ محفوظ تھے اور غلط فہمی کا امکان ان میں کم تھا اور پھر قرآنی الفاظ تھے۔پس آپ نے کہا کہ یہ لفظ بولا کرو اور دوسرے الفاظ یعنی لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ ایسے ہیں کہ جو ایک معنوں سے ٹھیک ہیں لیکن بعض دوسرے معنوں سے ان کی وجہ سے غلط فہمی ہوتی ہے اس لئے ان لفظوں کو عام طور پر استعمال نہ کیا کرو۔اس روایت پر بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ فرمائے ہیں تو حضرت عائشہ ؓ کو روکنے کا کیا حق تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ کا علم نہ ہو گا اس وجہ سے انہوں نے منع کیا اور اس قسم کا عدم علم کا فتویٰ قابل قبول نہیں ہوا کرتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ امر تو قرآن کریم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور اس کے بارہ میں کثرت سے احادیث موجود ہیں اور صرف ایسے ہی مسائل سے صحابہ کی ناواقفیت فرض کی جا سکتی ہے جن کا علم چند لوگوں میں محدود ہو۔مگر یہ تو ایسے مسائل میں سے نہیں۔اس لئے اس وجود کو اس سے ناواقف قرار دینا جس کی نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آدھا دین اس سے سیکھو۔درست نہیں۔نیز الفاظ روایت بتاتے ہیں کہ ایک جماعت کو حضرت عائشہ ؓ نے یہ ارشاد فرمایا ہے یا یہ کہ وہ اکثر ایسا فرمایا کرتی تھیں اور یہ امر فرض کرنا اور بھی مشکل ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کی یہ رائے لوگوں میں پھیلی اور کسی نے بھی ان کی رائے کو ردّ نہ کیا۔پس معلوم یہی ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اس علم کے باوجود کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے ان الفاظ کے عام استعمال سے روکتی تھیں تا لوگوں میں غلط فہمی نہ ہو جائے۔یہ اعتراض کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے ہوئے کو کون روک سکتا ہے درست نہیں کیونکہ الفاظ سے نہیں روکا جاتا بلکہ ان کے بے موقع استعمال سے روکا جاتا ہے جیسے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حضرت عمر ؓ مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ دَخَلَ الْـجَنَّۃَ کہنے سے روکتے ہیں۔اس لئے تو نہیں کہ وہ فقرہ غلط تھا۔عمرؓ اسے غلط کہنے والے کون تھے بلکہ اس لئے کہ وہ ایسے الفاظ میں تھا کہ سمجھ دار آدمی تو اس کا مفہوم سمجھ سکتے ہیں لیکن عوام کے متعلق خطرہ تھا کہ وہ غلطی میں مبتلا ہو جائیں گے۔یہی مطلب حضرت عائشہ ؓ کا تھا۔دوسری روایت بھی ابن ابی شیبہ سے ہے اس کے الفاظ یہ ہیں قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ الْمُغِیْرَۃِ ابْنِ شُعْبَۃَ صَلَّی اللہُ عَلٰی مُـحَمَّدٍ خَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ یعنی حضرت مغیرہ ابن شعبہ کے پاس کسی شخص نے یہ الفاظ کہے اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام و درود بھیجے جو خاتم الانبیاء تھے اور جن کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا فَقَالَ الْمُغِیْرَۃُ حَسْبُکَ اِذَا قُلْتَ خَاتَمَ الْاَنْبِیَاءِ مغیرہ بن شعبہ ؓ نے فرمایا کہ جب تو نے خاتم الانبیاء کہہ دیا تھا تو یہ کافی تھا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ کہنے کی ضرورت نہیں تھی فَاِنَّا کُنَّا نُـحَدِّثُ اَنَّ عِیْسیٰ عَلَیہِ السَّلَامُ خَارِجٌ۔کیونکہ ہم باتیں کیا کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ ؑظاہر ہونے والے ہیں فَاِنْ ھُوَ خَرَجَ فَقَدْ کَانَ قَبْلَہٗ وَ بَعْدَہٗ۔پس اگر وہ نکل آئے تو وہی آپ کے پہلے بھی ہوں گے اور آپ کے پیچھے بھی ہوں گے۔(الدر المنثور الاحزاب:۴۰) اس حدیث سے یہ امور ظاہر ہیں۔(۱)مغیرہ بن شعبہ کے نزدیک خاتم النبیین کے الفاظ کے یہ معنے نہیں تھے کہ آپ کے بعد نبی نہیں آسکتا۔(۲)ان کے نزدیک لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ کے الفاظ ویسے محفوظ نہیں جیسے خاتم النبیین کے الفاظ محفوظ ہیں۔(۳) مغیرہ بن شعبہ کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کے آنے کا امکان تھا۔(۴)وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زند ہ آسمان پر ہونے کے قائل نہ تھے۔تبھی آپ یہ نہیں کہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔بلکہ آپ یہ فرماتے ہیں کُنَّا نُـحَدِّثُ اَنَّ عِیْسیٰ عَلَیہِ السَّلَامُ خَارِجٌ۔ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ وہ زمین سے ظاہر ہوں گے معلوم ہوتا ہے ان کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں مگر وہ پھر زندہ کر کے واپس بھجوائے جائیں گے اس لئے انہوں نے نَازِلٌ مِّنَ السَّمَاءِ نہیں کہا بلکہ خَارِجٌکا لفظ استعمال کیا ہے۔