تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 200

کا۔پھر حضر ت ادریس علیہ السلام کا۔پھر حضرت یوسف علیہ السلام کا۔پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اور پھر حضرت آدم علیہ السلام کا۔پس آپ آخر الانبیاء بھی ہیں اور آپ اوّل الانبیاء بھی ہیں۔مگر انہی معنوں میں جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ورنہ پیدائش کے لحاظ سے آپ کُنْتُ خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَ اٰدَمُ مُنْجَدِلٌ فِیْ طِیْنِہ کا مصداق کیوں کر ہو سکتے ہیں۔ان معنوں کی رو سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی کہ اُوْتِیْتُ فَوَاتِـحَ الْکَلِمِ وَ جَوَامِعَہٗ وَخَوَاتِـمَہٗ (مسند احـمد بن حنبل مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص) حل ہوجاتی ہے کیونکہ سب سے اقرب مقام پر جس سے کلام ہوا یقیناً اسے فواتح الکلم ملے اور بندوں کی طرف سے جسے سب سے اوپر جا کر کلام ملا اسے خواتم الکلم ملے۔کیونکہ باقی سب کلام اس سے نچلے مقام پر ہوئے ہیں اور چونکہ وہ ہر مقام پر سے گذر کر اوپر پہنچا اسے جوامع الکلم ملے۔درحقیقت لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ اور اَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِ۔یہ دو حدیثیں معراج کے واقعہ پر مبنی ہیں اور حدیثِ معراج ہی ان کو حل کرتی ہے۔مگر مسلمانوں نے غلطی سے ان سے یہ نتیجہ نکال لیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر قسم کی نبوت بند ہے معلوم ہوتا ہے کہ خود صحابہ کو بھی احساس تھا کہ ختم نبوت کے بارہ میں لوگ افراط سے کام لیں گے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زور دینے کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکیں گے۔چنانچہ اس بارہ میں مندرجہ ذیل حوالہ جات مفید روشنی ڈالتے ہیں۔خاتم النبیین کے معنے صحابہؓ کے نزدیک اوّل۔ابن ابی شیبہ سے در منثور میں ایک حدیث منقول ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ ؓ نے صحابہ کو یہ کہتے سن لیا کہ اِنَّہُ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَ لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ۔آپ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔آپ نے بڑے جوش سے فرمایا قُوْلُوْا خَاتَمَ النَّبِیِّیّنَ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین تو کہو مگر یہ مت کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اب یہ ایک سیدھی بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو الفاظ فرمائے تھے حضرت عائشہ ؓ ان کی تردید نہیں کر سکتی تھیں۔یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ آپ تو کہیں لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ مگر حضرت عائشہؓ اس کی تردید فرمائیں اور کہیں وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ۔حضرت عائشہ ؓ جیسے وجود سے اس چیز کا امکان ہی نہیں ہو سکتا۔آپ کا مطلب درحقیقت یہی تھا کہ خاتم النبیین قرآن کریم کا لفظ ہے جس سے کوئی غلطی نہیں لگ سکتی۔مگر لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ سے غلط فہمی ہو سکتی ہے۔اس لئے خاتم النبیین تو بےشک کہو مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ورنہ ایک عارف تو سمجھ جائے گا کہ خَاتَمُ النَّبِیِّیْن اور لَانَبِیَّ بَعْدِیْ سے صرف اتنی مراد ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو میرے سلسلہ کو