تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 197
اگر وہ آپ کا کوئی ایک حکم بھی بدلتا ہے تب بھی وہ آپ کی شریعت کو منسوخ کرنے والا ہے۔اور لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ والی حدیث اسے جھوٹا قرار دیتی ہے۔ایسے آدمی کو یقیناً ہم بھی کافر اور دجال کہیں گے اور اسے نبی چھوڑ ایک معمولی مسلمان بھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔بلکہ دوسرے مسلمانوں سے ہمارا جھگڑا ہی اس بات پر ہے کہ دوسرے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ آخری زمانہ میں آسمان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ہم کہتے ہیں کہ وہ مسیح موسوی سلسلہ کے نبی ہیں اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کے بغیر نبوت پائی ہے اس لئے ایسے نبی کے واپس آنے کا عقیدہ رکھنا جو آپ کا غلام نہیں آپ کی شدید ہتک ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت بگڑی تو اس کی اصلاح کے لئے آپ کی امت میں سے تو کوئی شخص کھڑا نہ ہوا بلکہ دو ہزار سال پہلے کا نبی لانا پڑا۔ایسا عقیدہ رکھنا یقیناً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خطرناک ہتک ہے۔اس طرح محمدی سلسلہ کو موسوی سلسلہ کا دستِ نگر بننا پڑتا ہے جسے کوئی سچا مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیّد وُلد آدم اور سید الانبیاء کہا جاتا ہے اور دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے کہ جب آپ کی اُمت بگڑے گی تو آپ کی امت کی اصلاح کے لئے باہر سے ایک نبی آئے گا جو موسوی سلسلہ کا ہو گا۔اُمّت محمدیہ میں کوئی ایسا شخص نہیں ہو گا جو ان مفاسد کی اصلاح کر سکے۔یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی غنیم چڑھ کر آجائے تو کہا جائے کہ ہمارا بادشاہ بے شک طاقتور ہے مگر اس کے پاس کوئی فوج نہیں جو اس غنیم کا مقابلہ کر سکے اس لئے دوسرے بادشاہ سے فوج منگوائی جائے۔حیرت آتی ہے کہ ان لوگوں کی عقلیں کس طرح ماری گئی ہیں اور وہ کس طرح یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت پر جب شیطان کا حملہ ہو گا تو اُ س کا مقابلہ کرنے کے لئے آپ کے پاس کوئی فوج نہیں ہو گی۔ہاں موسوی سلسلہ کا ایک نبی عیسیٰ (علیہ السلام) آئے گا اور وہ دشمن کا مقابلہ کرے گا اور اس طرح آپ کو اپنے احسان کے نیچے لائے گا۔ہمارے نزدیک ایسا عقیدہ رکھنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خطرناک ہتک ہے اور جس شخص کے دل میں ذرا بھی ایمان اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہو وہ ایسا ظالمانہ عقیدہ کبھی تسلیم نہیں کر سکتا۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آخر الانبیاء کے اگر یہ معنے کئے جائیں کہ آپ تمام نبیوں کے آخر میں آئے ہیں تو اس کے صرف اتنے معنے ہوں گے کہ آپ نبیوں کی قطار میں آخر میں کھڑے ہیں جیسے نیچے کے نقشہ سے ظاہر ہے۔اللہ تعالیٰ۔۔۔۔مختلف انبیاء۔۔۔۔محمد رسول اللہ ؐ۔۔۔انسان۔اب ظاہر ہے کہ قطار میں جو آخری آدمی ہوتا ہے