تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 198
وہ دوسروں سے افضل نہیں ہوتا کہ اِسے کوئی خوبی کی بات سمجھا جائے۔یہ تو ایسا ہی ہے جیسے بہت سے سپاہی ایک قطار میں کھڑے ہوں تو ان میں سے جو آخری سپاہی ہو اس کے متعلق یہ کہنا شروع کر دیا جائے کہ وہ تمام سپاہیوں پر فضیلت رکھتا ہے کیونکہ وہ آخر میں کھڑا ہے حقیقتاً اسے کوئی فضیلت حاصل نہیں ہو گی بلکہ وہ بھی دوسروں کی طرح ایک سپاہی ہوگا۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر احمدیوں کے علماء کے قول کے مطابق قطار میں آخری نبی تسلیم کرلیا جائے تو اس سے آپ کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔بلکہ آپ بھی دوسرے نبیوں کی مانند ایک نبی قرار پاتے ہیں۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس حدیث میں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر الانبیاء کہا گیا ہے مگر ایک اور حدیث ایسی ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اوّل الانبیاء کہا گیا ہے اور وہ حدیث یہ ہے۔آپ فرماتے ہیں کُنْتُ خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَ اٰدَمُ مُنْجَدِلٌ فِیْ طِیْنِہٖ۔میں اس وقت بھی خاتم النبیین تھا جب آدم ابھی مٹی کے ڈلے میں پڑا ہوا تھا۔گویا آپ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے بھی پہلے خاتم النبیین تھے یادوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ آپ اوّل النبیین تھے۔اب اگر غیر احمدی علماء کے قول کے مطابق آپ کو نبیوں کی قطار کے آخر میں مان لیا جائے تو آپ اوّل الانبیاء نہیں ہو سکتے اور اگر اوّل الانبیاء مانا جائے تو آخر الانبیاء نہیں ہو سکتے۔لیکن ان دونوں حدیثوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور کشف کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو دونوں حدیثیں واضح ہو جاتی ہیں۔یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اوّل الانبیاء ہونا بھی ثابت ہو جاتا ہے اور آپ کا آخر الانبیاء ہونا بھی ثابت ہو جاتا ہے اور پھر یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ آپ سب انبیاء سے افضل ہیں۔مسند احمد بن حنبل میں ایک روایت آتی ہے۔آپ فرماتے ہیں جب معراج ہوا تو میں پہلے آسمان پر گیا وہاں حضرت آدم علیہ السلام تھے۔میں ان سے بھی اوپر نکل گیا اور دوسرے آسمان پر پہنچا۔وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے میں ان سے بھی اوپر نکل گیا اور تیسرے آسمان پر پہنچا۔وہاں حضرت یوسف علیہ السلام تھے۔میں ان سے بھی اوپر نکل گیا اور چوتھے آسمان پر گیا۔وہاں حضرت ادریس علیہ السلام تھے۔میں ان سے بھی اوپر نکل گیا اور پانچویں آسمان پر پہنچا وہاں حضرت ہارون علیہ السلام تھے میں ان سے بھی اوپر نکل گیا اور چھٹے آسمان پر پہنچا وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے میں ان سے بھی اوپر نکل گیا اور ساتویں آسمان پر پہنچا وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے تب جبریل علیہ السلام نے مجھ سے کہا۔اب اور اوپر چلیں۔میں اوپر گیا اور سدرۃ المنتہیٰ میں جا کر کھڑا ہو گیا اور وہاں اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوئی(مسند احمد بن حنبل مسند مالک بن صعصعہ)۔