تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 196

کرنے والا ہو، آپ کے لائے ہوئے دین کو قائم کرنے والا ہو، وہ بھی آپ کے آخری نبی ہونے کو نہیں توڑتا۔بلکہ وہ آپ کے وجود میں ہی شامل ہو گا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ہاتھ جسم کا ایک حصہ ہے۔اس کے متعلق کوئی شخص یہ نہیں کہا کرتا کہ جسم الگ چیز ہے اور ہاتھ الگ۔یا سائے کو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کوئی نیا آدمی ہے۔پس مَسْجِدِیْ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ کے فقرہ نے اَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَآءِ کے فقرہ کو حل کر دیا۔جس طرح آپ کی مسجد کی نقل میں کوئی مسجد بنانا آپ کی مسجد کی آخریت کو نہیں توڑتا۔اسی طرح ایسا نبی جو آپ کا ماتحت ہو وہ بھی آپ کی نبوت کی آخریت کو نہیں توڑتا۔اسی طرح مسلمانوں کی طرف سے لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ (بخاری کتاب احادیث الانبیآء باب ما ذکر عن بنی اسرائیل) والی حدیث بھی پیش کی جاتی ہے۔اگر اس کے یہ معنے کئے جائیں۔کہ میری وفات کے بعد کوئی نبی نہیںآئے گا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ کے زمانہ میں کوئی نبی آسکتا تھا؟ جب آپ ساری دنیا کی طرف مبعوث کئے گئے تھے تو یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ آپ کے زمانہ میں کوئی دوسرا نبی نہیں آسکتااور جب آپ کے زمانہ میں کوئی دوسرا نبی نہیں آسکتا تھا تو پھر یہ کہنا کہ میری وفات کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا کیا مفہوم رکھتا تھا۔دراصل اس کا بھی یہی مفہوم تھا کہ میری نبوت پر کوئی ایسا زمانہ نہیں آسکتا جس میں وہ ختم ہو جائے اور یہ بالکل درست ہے اور ہمارا عقیدہ بھی یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے۔چنانچہ اگر ایک طر ف ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل غلام تھے اور آپ کی شریعت کو جاری کرنے والے تھے۔آپ کا کوئی علیحدہ کلمہ نہیں تھا کوئی علیحدہ نمازیں نہیں تھیں۔چونکہ لوگ قرآن کریم کی تعلیم کو بھول گئے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا تارسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا آپ دوبارہ احیاء کریں۔گویا یہ ظلّی نبوت ہے اور ظِلّ کوئی الگ وجود نہیں ہوتا بلکہ اصل چیز کا ہی عکس ہوتا ہے۔پس لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کا بھی وہی مفہوم ہے جو مَسْجِدِیْ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ کا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف اس نبوت میں ہتک ہے جس کا مدعی یہ اعلان کرے کہ میں آپ کی نبوت کو منسوخ کرتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نبوت میں ہتک ہے جس کا مدعی یہ اعلان کرے کہ میں نے آپ سے کوئی فیضان حاصل نہیں کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نبوت میں ہتک ہے جس کا مدعی یہ اعلان کرے کہ اس نے براہ راست نبوت حاصل کی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نبوت میں ہتک ہے جس کا مدعی یہ اعلان کرے کہ اس نے آپ کے بنائے ہوئے اصولوں کو منسوخ کر دیا ہے خواہ وہ ان کو جزوی طور پر منسوخ کرے یا کلی طور پر منسوخ کرے۔بلکہ