تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 192
تو ہمیں سمجھنا پڑے گا کہ یہ پیشگوئی جو ہمارے زعم میں جھوٹی ثابت ہوئی ہے اس کے کوئی اور معنے تھے جوہماری سمجھ میں نہیںآئے۔اگر آپ جھوٹے ہوتے تو دوسری علامات آپ میں کیوں پوری ہوتیں اور دوسرے دلائل آپ کی صداقت پر کیوں موجود ہوتے۔یہاں بھی وہی دلیل دی گئی ہے کہ آپ کی صداقت اور رسالت تو اور دلائل سے بھی ثابت ہے۔موسٰی کی پیشگوئیاں موجود ہیں، عیسیٰ ؑ کی پیشگوئیاں موجود ہیں، داؤد ؑ کی پیشگوئیاں موجود ہیں، یسعیاہ ؑ کی پیشگوئیاں موجود ہیں، یرمیاہ ؑ کی پیشگوئیاں موجود ہیں، دانیال ؑ کی پیشگوئیاں موجود ہیں اور دوسرے کئی انبیاء کی پیشگوئیاں موجود ہیں۔پھر آپ کو ایک بے مثال کلام دیا گیا۔قوت ِ قدسیہ عطا کی گئی۔آپ کو دشمنوں پر غلبہ حاصل ہوا۔آپ کو نصرتِ الٰہی حاصل ہوئی۔ان سب دلیلوں کے ہوتے ہوئے اگر ایک دلیل کسی شخص کی سمجھ میں نہیں آئی تو اسے سمجھنا چاہیے کہ ہمیں غلطی لگی ہے یہ بہرحال جھوٹا نہیں۔پس وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ کہہ کر اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ اگر آ پ کی نرینہ اولاد زندہ نہیں رہی تو اس سے آپ جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا یہ استدلال بالکل غلط ہے۔باوجود اس کے کہ آیت اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ کے بظاہر خلاف یہ آیت مضمون رکھتی ہے پھر بھی اس کے سچا ہونے میں شک نہیں کیونکہ یہ رسول اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تفصیلی پیغام لایا ہے اگر ایک بات میں شک ہو تو تم اور ہزاروں پیغاموں کو کدھر لے جاؤ گے۔حق تو یہ ہے کہ ایک بات بھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ثابت ہو جائے اور دس بیس مشتبہ ہو جائیں تو تقویٰ چاہتا ہے کہ ہم تکذیب میں جلدی نہ کریں۔کیونکہ جو سچ ہوئی اس کی ہم تاویل کچھ نہیں کر سکتے۔لیکن جب بات یہ ہو کہ کلام کے بعد کلام پورا ہوا ہو تو اگر ایک بات نہ بھی سمجھ میں آئے تو اس کی بنا پر ہم تکذیب ہرگز نہیں کر سکتے بلکہ اپنی عقل کا قصور قرار دیں گے اور اسے غلط نہیں کہیں گے، تشریح طلب کہیں گے۔اب سوال یہ ہے کہ مان لیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ جھوٹے ہیں، آپ بہرحال سچے ہیں اور آپ کی راستبازی پر ہمارا ایمان ہے۔لیکن ایک کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ میرے شبہ کو دور کرنا بھی تو خدا تعالیٰ کا کام ہے۔آخر جو مجھے شبہ پیدا ہوا ہے اس کا کیا جواب ہے۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ آپ خاتم النبیین ہیں۔خَاتم کے معنے مُہر کے ہوتے ہیں اورمہر کی غرض تصدیق کرنا ہوتی ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے تو واقف کار صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ بادشاہ بغیر مہر کے خط کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتے۔اس پر آپ نے ایک مہر بنوائی جس میں سب سے اوپر اللہ لکھا ہوا تھا اس کے نیچے رسول کا لفظ تھا اور اس کے نیچے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا لفظ تھا۔گویا اس کی شکل یہ تھی یہ مہر آپ نے اسی لئے بنوائی کہ آپ اسے