تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 189

ہوتا کہ آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی یہ نام رکھے تھے یا آپ نے تو ایک ہی نام رکھا تھا مگر ابو طالب یا حضرت خدیجہ ؓ نے پیار سے دوسرے نام بھی رکھ دیئے تھے۔معتبر روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ہی بچے کے دو نام تھے۔گو بعض کمزور روایتوں میں یہ بھی آتا ہے کہ دونوں نام الگ الگ بچوں کے تھے۔قاسم اور طیب دونوں ہی بچپن میں فوت ہو گئے تھے۔قاسم نے جب وفات پائی ان کی عمر سات آٹھ برس کی تھی اور عبد اللہ دو تین سال کی عمر میں ہی فوت ہو گئے تھے۔(۳)تیسرا بچہ آپ کے ہاں اس آیت کے بعد ماریہ قبطیہ ؓ سے ہوا، جسے مقوقس گورنر مصر نے بطور ہدیہ بھجوایا تھا۔اس بچہ کا نام ابراہیم تھا۔یہ ۸ھ میں پیدا ہوئے اور ان کی وفات ۲۹ شوال ۱۰ ھ کو ہوئی(انگریزی مہینوں کے حساب سے یہ تاریخ ۲۷جنوری ۶۳۷ء بنتی ہے )گویا ۲ سال کے قریب آپ کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم زندہ رہے( السیرۃ النبویۃ لابن ھشام تزویج رسول اللہ خدیجۃ و السیرۃ الحلبیۃ باب ذکر اولادہ) ان تینوں لڑکوں کی عمروں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی رَجُل نہیں ہوا اور یہی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ آپ کسی مرد کے باپ نہ کبھی ہوئے ہیں، نہ اب ہیں اور نہ آئندہ ہوں گے۔گویا ماضی میں بھی آپ کی کوئی اولاد بلوغت کو نہیں پہنچی تھی اور جب یہ سورۃ نازل ہوئی اس وقت بھی آپ کے ہاں بالغ نرینہ اولاد موجود نہ تھی اور آئندہ بھی کوئی لڑکا بلوغت کو نہیں پہنچے گا۔گویا تینوں زمانوں کے لحاظ سے آپ کی ابوّت کی نفی کی گئی ہے اور اس طرح لے پالک کے طریق کا جو عرب میں رائج تھا اور جس کے ذریعہ سے پالے ہوئے بچہ کو صلب سے پیدا ہونے والے بچہ کا رتبہ دیا جاتا تھا ردّ کیا گیا ہے مگر اس اعلان نے لوگوں کے دلوں میں ایک نیا شک پیدا کر دیا۔اگر تو آیت یہ ہوتی کہ لَیْسَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ تب تو کوئی شبہ نہ ہوتا کیونکہ یہ ایک امر واقعہ تھا کہ آپ کے ہاں اولاد ِ نرینہ بالغ نہ تھی۔اس سے مستقبل پر کوئی روشنی نہ پڑتی تھی۔مگر مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ کہہ کر مستقبل کے متعلق بھی پیشگوئی کر دی گئی اور اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ کی پیشگوئی کی گویا واضح طور پر تردید ہو گئی۔یہ آیات ۴ ہجری کے شروع میں نازل ہوئی ہیں۔اس کے بعد ۸ ہجری میں حضرت ابراہیم پیدا ہوئے جو ۱۰ھ میں فوت ہو گئے۔گویا دشمن کو د۲و خوشیاں نصیب ہوئیں۔پہلی خوشی تو اس نے ابتر کہہ کر حاصل کی۔اس کے بعدجبکہ سولہ سال تک آپ کے ہاں اولاد نہ ہوئی اور بظاہر مایوسی ہو گئی یہ آیت نازل ہوئی اور دشمن نے یہ کہنا شروع کیا کہ اب چونکہ اولاد سے مایوسی ہو گئی ہے پہلی پیشگوئی کو بدل کر ایک نئی پیشگوئی کر دی گئی ہے۔تاکہ اس الزام کو کہ آپ کے ہاں اولاد نرینہ نہیں اپنے فائدہ کے لئے استعمال کیا جائے اور کہا جائے کہ گویا نرینہ اولاد کا نہ ہونا ہماری پیشگوئی کے نتیجہ میں ہے اور ہماری سچائی کی علامت ہے لیکن اولاد کا انقطاع جو سولہ سال سے چلا آتا تھا اس پیشگوئی