تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 15

میں عطا ہو گی تو پھر یہ معنے بطور حصر کے نہیں ہوں گے۔یعنی اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ اس جگہ کوثر سے صرف وہی نہر مراد ہے بلکہ مراد یہ ہو گی کہ کوثر مذکور فی القرآن کی ایک آئندہ زندگی کی مثال وہ نہر ہے جو جنت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جائے گی۔جنت کی نعما ءکے متعلق قرآن کریم نے یہ اصل بیان فرمایا ہے کہ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِيْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا (البقرۃ:۲۶)یعنی جب کبھی جنتیوں کو جنت کے پھلوں میں سے کوئی پھل کھلایا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل ہے جو ہمیں پہلے بھی ملتا رہا ہے اور وہاں انہیں ملتی جلتی چیزیں دی جائیں گی۔یہ آیت سورۂ بقرہ کی ہے۔اس کے بعد سورۂ سجدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ (السجدۃ:۱۸) یعنی جنت میں جو چیزیں مومنوں کے لئے مخفی رکھی گئی ہیں اور جن سے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچے گی انہیں کوئی بھی نہیں جانتا۔اب ایک طرف اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ جنت کی نعماء کا کسی کو علم نہیں اور دوسری طرف مومنوں کا ان چیزوں کو دیکھ کر یہ کہنا کہ یہ تو وہی چیزیں ہیں جو ہمیں پہلے بھی دنیا میں ملتی رہی ہیں بظاہر بڑی تذلیل کا فقرہ ہے۔اگر کوئی شخص اپنے دوست سے ملنے کے لئے جائے اور وہ دوست اسے یہ کہے کہ ہم تمہیں ایسا پھل کھلائیں گے جو تم نے پہلے کبھی نہیں کھایا ہوگا تو اس پھل کو دیکھ کر بڑی اجڈ طبیعت والا ہی کوئی انسان ہو گا جو یہ کہے کہ یہ پھل میں نے پہلے بھی کھایا ہوا ہے۔عام حالات میں ایسا انسان جو سلجھے ہوئے اخلاق رکھتا ہو اس قسم کا فقرہ استعمال نہیں کر سکتا کہ یہ پھل میں نے پہلےبھی کھایا ہوا ہے۔بلکہ وہ یہی کہےگا کہ یہ پھل نہایت لذیذ اور عمدہ ہے اگر انسان اپنے ایک معمولی دوست سے بھی ایسی بات نہیں کہہ سکتا تو خدا تعالیٰ کے متعلق یہ بات کیسے کہی جاسکتی ہے۔خدا تعالیٰ تو کہتا ہے کہ اگلے جہان میں تمہیں وہ پھل دیئے جائیں گے جو تم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ایسے پھلوں کو دیکھ کر مومنوں کا یہ کہنا کہ ہم نے یہ پھل پہلے بھی کھائےہوئے ہیں بالکل جھوٹ بن جاتا ہے اور چونکہ کوئی جنتی ایسی بات نہیں کہہ سکتا جو جھوٹ ہو۔اس لئے معلوم ہوا کہ اس آیت کے وہ معنے نہیں جو عام طور پر کئے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا کہ وہ چیزیں جو مومنوں کو جنت میں ملیں گی دنیا کی چیزوں کے مشابہ ہوں گی۔گویا ایک طرف ان کو آپس میں متشابہ قرار دیا اور دوسری طرف ان کو بالکل مختلف قرار دیا۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اس جگہ مادی نعماء اور پھل مراد نہیں بلکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو روحانی نعمتیں انہیں ملی تھیں وہی متشکل ہو کر انہیں اگلے جہان میں پھلوں اور باغات کی صورت میں مل جائیں گی۔جب ایک مومن جنت میں انگور کھائے گا تو وہ کہے گا یہ تو وہ انگور ہیں جو ہمیں دنیا میں دیئے گئے تھے یعنی جو مزہ ہمیں نمازوںمیں آتا تھا