تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 185
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرب صحابی تھے اور وہ اپنے باپ سے بھی پہلے چودہ سال کی عمر میں ایمان لے آئے تھے۔باپ کفار کی طرف سے لڑائی میں شامل ہوتا تھا تو بیٹا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑائی میں شامل ہوتا تھا۔پھر حضرت عبد اللہ ؓ کی بھی آگے اولاد چلی۔پھر اسلام کے دشمن ابو سفیان کی بھی اولاد تھی۔آپ کا بیٹا معاویہ ؓ تھا جس سے بنو امیہ ہوئے۔جنہوں نے اسپین میں حکومت کی اور اب تک بھی ابو سفیان کی نسل پائی جاتی ہے۔غرض آپ کے شدید سے شدید دشمن کی بھی اولاد چلی۔بلکہ جن لوگوں کے متعلق روایت میں یہ آتا ہے کہ انہوں نے آپ کو ابتر کہا وہ بھی صاحب ِ اولاد ہوئے اور ان کی نسل چلی مگر ان کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نرینہ اولاد زندہ نہیں رہی بیٹے ہوئے مگر فوت ہو گئے۔آخری عمر میں ماریہ قبطیہ ؓ سے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے۔مگر وہ بھی دو سال زندہ رہ کر فوت ہو گئے۔اب یہ ایک عجیب بات ہے کہ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ ہم نے تجھے کوثر عطا فرمایا ہے جس کے نتیجہ میں تیرا دشمن ہی ابتر ہو گا اور اس کی نرینہ اولاد نہیں چلے گی مگر واقعات اس کے خلاف ہیں۔آپ کے ہر دشمن کے ہاں قریباً لڑکے تھے اور ان کی نسلیں قائم رہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی لڑکا زندہ نہیں رہا اور اس طرح آپ کی جسمانی نسل ختم ہو گئی۔پس اس آیت پر یہ ایک بڑا بھاری اعتراض پیدا ہوتا ہے اور ایک مسلمان حیران ہوتا ہے کہ اس کا جواب کیا دے۔اس اعتراض کے جواب میں یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ دراصل اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ کے مقابلہ میں ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تجھے کوثر عطا کیا ہے۔پس تو دعائیں مانگ اور قربانیاں پیش کر۔اس کے نتیجہ میں تیرا دشمن ہی بے اولاد رہے گا۔میں بتا چکا ہوں کہ لُغت میں کوثر کے معنے اَلرَّجُلُ الْمِعْطَاء کے بھی آتے ہیں جس کے معنے ہیں بڑا سخی آدمی یا صاحب الخیر الکثیر۔وہ آدمی جس کے اندر بڑی خیر اور برکت پائی جائے۔پس آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ ہم تجھے ایک بہت بڑی خیرو برکت رکھنے والے اور سخی انسان دینے کی خبر دیتے ہیں۔اس انسان کے ملنے کے شکریہ میں تُو دعائیں مانگ اور قربانیاں پیش کر۔اس کے نتیجہ میں تیرا دشمن تو نرینہ اولاد سے محروم رہے گا اور تو نرینہ اولاد والا ہو جائے گا۔میں یہ بھی بتا چکا ہوں کہ یہ علامتیں جو یہاں بیان کی گئی ہیں کہ رجل معطاء ہو گا اور صاحب الخیر الکثیر ہو گا یہ مسیح اور مہدی کی علامات ہیں اور اسی کے لئے فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ کا حکم ہے پس جس طرح اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ میں جسمانی اولاد مراد نہیں بلکہ روحانی اولاد مراد ہے اسی طرح اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ میں بھی جسمانی اولاد مراد نہیں بلکہ روحانی اولاد مراد ہے اور اللہ تعالیٰ اس امر کی