تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 182
وہی شخص کھڑا ہو سکتا ہے جو سب سے زیادہ بہادر ہو۔پھر صحابہ ؓ نے کہا کہ آپ کے پاس اکثر حضرت ابو بکر ؓ کھڑے ہوا کرتے تھے اور ہمارے نزدیک وہی سب سے زیادہ بہادر تھے۔میور جیسا اسلام کا شدید ترین دشمن لکھتا ہے کہ جب جنگ ِ احزاب ہوئی مسلمانوں کی تعداد اتنی کم تھی اور دشمن کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ یہ بات سمجھ میں ہی نہیں آتی کہ وہ دشمن سے لڑائی کس طرح کرتے تھے۔دشمن کی بہت بڑی تعداد تھی اور پھر وہ متواتر حملے کرتا تھا۔کئی دن باریاں مقرر کر کے دشمن حملہ کرتا رہتا تھا تا چوبیس گھنٹے متواتر حملہ ہو سکے اور مسلمان تھک جائیں اس وقت مسلمان صرف بارہ سو کی تعداد میں تھے جن میں سے پانچ سو عورتوں کی حفاظت پر مقرر تھے۔لڑنے والے لشکر کے صرف سات سو آدمی تھے لیکن دشمن کی تعداد پندرہ ہزار تھی۔دشمن اگر اپنے لشکر کو پانچ حصوں میں بھی تقسیم کرتا تو ایک ایک وقت میں مسلمانوں کے سامنے کفار کا تین تین ہزار کا لشکر آتا تھا اور ہر حصہ کی قریباً پانچ پانچ گھنٹے باری آتی تھی۔اس طرح وہ متواتر ۲۴گھنٹے لڑائی کر سکتا تھا۔لیکن مسلمانوں کا لشکر اتنا تھوڑا تھا کہ وہ لشکر کو آدھا آدھا بھی نہیں کر سکتے تھے اور پھر ایک میل کا لمبا فرنٹ تھا جس پر وہ پھیلے ہوئے تھے۔پس جب دشمن باری باری پانچ گھنٹے کے لئے حملہ کرتا تو مسلمانوں کو بغیر آرام چوبیس گھنٹے لڑنا پڑتا اور پھر بھی وہ دشمن کے مقابلہ پر صرف اس کی تعداد سے چوتھا حصہ لشکر لا سکتے تھے اور نتیجہ یہ ہوتا کہ لوگوں کو سونے کا موقعہ نہ ملتا۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دفعہ اس جنگ میں کئی دن سونے کا موقعہ نہ ملا۔تاریخ میں آتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جاگتے ہوئے کئی دن گذر گئے تو آپ نے اپنی ایک بیوی سے جو آپ کے پاس تھیں کہا کہ مجھے اتنے دن بغیر سوئے گذر گئے ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ مجھے اب کچھ سو لینا چاہیے تاکہ میری صحت قائم رہ سکے۔لیکن دشمن چاروں طرف سے حملہ کر رہا ہے ہوشیاری سے کام لینا بھی ضروری ہے۔اگر کوئی ایسا آدمی مل جائے جو خیمے کا پہرہ دے تو میں تھوڑی دیر کے لئے سو جاؤں اتنے میں باہر سے ہتھیاروں کی جھنکار کی آواز آئی۔آپ نے پوچھا کون ہے؟ ایک انصاری صحابی ؓ بولے یا رسول اللہ میں نے دیکھا کہ آپ بہت دنوں سے سو نہیں سکے۔لڑائی میں اب کچھ وقفہ تھا میں نے خیال کیا کہ میں چل کر خیمہ کا پہرہ دوں تا آپ تھوڑا سا سو لیں۔یہ قربانی اور ایثار کی کتنی شاندار مثال ہے کہ آپ متواتر کئی دن جاگتے رہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں سوئے اور پھر جب آپ تھک گئے تو ایک صحابی جو خود آپ کی طرح جاگتا رہا تھا فوراً آپہنچا کہ میں پہر ہ دیتا ہوں آپ سو جائیں(بخاری کتاب الـجھاد بـاب الـحراسۃ فی الـغـزو فی سـبـیـل اللہ)۔یہی بات خدا تعالیٰ نے یہاں بیان فرمائی ہے کہ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔تو دعائیں کر اور بڑی بڑی قربانیاں پیش کر۔تمہارا مقابلہ بڑا سخت ہو گا۔اگر تُو دعائیں کرتا گیا اور قربانیاں پیش کرتا