تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 178

وقت تک چلا جاتا ہے جب تک شفق کی روشنی غائب نہیں ہو جاتی۔پھر عشاء کا وقت شروع ہوتا ہے بعض کے نزدیک اس کا وقت ساڑھے بارہ بجے تک رہتا ہے اور بعض کے نزدیک عشاء کا وقت صبح کی نماز تک رہتا ہے۔پھر پَو پھٹنے کے بعد فجر کی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک چلا جاتا ہے جب تک کہ سورج نہ نکلے۔پس ہر نماز کا کچھ ابتدائی وقت ہوتا ہے اور کچھ آخری وقت ہوتا ہے۔نماز کا اصل وقت فقہاء میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا نماز کا حقیقی وقت ابتدائی اور انتہائی اوقات کے درمیان چکر کھاتا ہے یا اوّل وقت حقیقی ہوتا ہے اور بعد میں نماز کی قضاء چلتی ہے۔بعض فقہاء کے نزدیک پہلا وقت ہی اصل وقت ہے اور پھر جتنی دیر ہو گی قضاء چلے گی۔لیکن جب دوسری نماز کا وقت شروع ہو جائے گا تو پھر قضاء بھی نہیں ہو گی اور بعض فقہاء کے نزدیک پہلے وقت میں نماز پڑھ لینا بہتر ہے مگر اس کا ابتدائی وقت اصل نہیں۔یعنی اگر انسان ابتدائی وقت میں نماز پڑھ لے تو یہ زیادہ بہتر ہے اور اگر آخری وقت میں پڑھے تو یہ جائز ہو گا قضاء نہیں ہو گی۔وہ فقہاء جن کے نزدیک نماز کا اصل وقت ابتدائی ہے اور بعد میں نماز کی قضاء پڑھی جاتی ہے ان کے نزدیک نماز کے ابتدائی پندرہ منٹ جس میں وہ خیال کرتے ہیں کہ نماز پڑھی جا سکتی ہے اگر گذر جائیں اور کوئی شخص فوت ہو جائے اس صورت میں کہ اس نے اپنی نماز نہ پڑھی ہو تو وہ تارک نماز ہو گا کیونکہ اسے موقعہ ملا اور اس نے نماز نہ پڑھی اس لئے وہ گناہ گار ہے۔لیکن وہ فقہاء جو اس بات کے حق میں ہیں کہ آخری وقت میں بھی نماز پڑھنا جائز ہے وہ کہتے ہیں کہ چونکہ وقت لمبا تھا اور وہ ایسی حالت میں فوت ہوا جبکہ نماز کا وقت ابھی باقی تھا اس لئے وہ گناہ گار نہیں ہو گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے سارے وقت کو ہی نماز کا وقت قرار دیا ہے۔چنانچہ احادیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دفعہ دیدہ و دانستہ نماز کو آخری وقت میں ادا کیا(ترمذی کتاب الصلٰوۃ باب ماجاء فی مواقیت الصلٰوۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم) اب یہ تو نہیں ہو سکتا تھا کہ کوئی صحابی آپ کی مجلس سے اٹھ کر نماز پڑھنی شروع کر دیتا۔اس لئے کہ نماز میں دیر ہو رہی ہے۔اسے بہر حال انتظار کرنا پڑتا تھا پس اگر یہ بات درست ہوتی کہ اگر کوئی شخص اوّل وقت یعنی نماز کے ابتدائی چند منٹ گذرنے کے بعد فوت ہو جائے اور وہ نماز نہ پڑھ سکے تو وہ گناہ گار ہے۔تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے بیٹھے اگر کسی کا ہارٹ فیل ہو جاتا اور وہ اوّل وقت میں نماز نہ پڑھ سکتا تو وہ گناہ گار ہوتا اور گناہ گار بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کی وجہ سے ہوتا اور یہ عقل کے خلاف ہے۔پس درحقیقت نماز کا سارا وقت ہی اصلی ہوتا ہے۔اگر کوئی وقت کو پیچھے کرتا ہے تو وہ گناہ گار نہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ پہلے وقت میں نماز پڑھنے میں زیادہ برکت ہوتی ہے۔پس