تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 176

کہ حضرت مرزا صاحب نے یہ لکھ کر حضرت مسیحؑ کی توہین کی ہے کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلامِ احمد ہے حالانکہ یہ توہین نہیں بلکہ اس حدیث کی تشریح ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام دونوں زندہ ہوتے تو ان کو میری اطاعت کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں؎ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلامِ احمد ہے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں لیکن مجھے حضرت عیسٰی علیہ السلام پر فضیلت حاصل ہے اس دعویٰ سے نتیجہ نکلا کہ جب وہ شخص جو حضرت مسیح ناصری ؑ سے افضل ہے وہ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہے تو اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو وہ کیوں نہ آپ کے غلام ہوتے۔اسی طرح اگر ایک شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہو کر پھر یہ کہتا ہے کہ میں آپ کا غلام ہوں تو یہ لازمی بات ہے کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام خود ہوتے تو وہ بھی آپ کے غلام ہوتے۔پس مسیح موعودؑ کا ایک ایک دعویٰ قرآنی آیات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے عین مطابق ہے اور آپ ہی وہ وجود ہیں جن کی اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی تھی۔اس جگہ ایک یہ سوال بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ یہاں ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور اَعْطَیْنٰکَ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ لڑکا اس وقت مل چکا تھا پھر اس سے حضرت مرزا صاحب کس طرح مراد ہو سکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو چیز یقینی طور پرملنے والی ہو اس کے لئے ماضی کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔مثلاً اگر ہم کسی کو کہیں کہ میں یہ چیز تمہیں ضرور دوں گا اور وہ کہے کہ آخر کب ملے گی توہم کہتے ہیں سمجھ لو کہ گویا مل گئی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہاں ماضی کا صیغہ استعمال کر کے اس خبر کے یقینی ہونے پر زور دیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ کوثر ہم تمہیں ضرور دیں گے اور اسے ایسی پکی بات سمجھو کہ گویا یہ چیز تمہیں مل گئی ہے۔اگر کوئی کہے کہ میں یہ معنے ماننے کے لئے تیار نہیں تو ہم اسے کہیں گے کہ تم جو کوثر کے معنے جنت کی نہر کے کرتے ہو تو کیا یہ اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مل چکی تھی؟ یہ کوثر بھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی زندگی میں نہیں ملی تھی۔اگر کہو کہ خدا تعالیٰ نے دے دی تھی گو اس کا قبضہ بعد میں وفات پرملے گا تو ہمارا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر نے بھی یہ بیٹا آپ کو دے دیا تھا گو اس کا ظہور آخری زمانہ میں ہونا تھا۔اسی طرح بعض لوگوں نے کوثر سے مراد قرآن کریم کی برکات لی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ جب یہ سورۃ نازل