تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 172

وہ خزانہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں دیا اور جس سے ہمارے گھر بھر گئے۔مگر افسوس کہ دوسرے مسلمان اس دولت کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔چوتھی دلیل ان معنوں کی تائید میں یہ ہے کہ آیۃ الکوثر کے الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ آنے والا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا ہو گا کیونکہ اَعْطَیْنٰکَ کے الفاظ کا مفہوم یہی ہو سکتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں بھی ایک روحانی بیٹے کی خبر پائی جاتی ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت سلمان فارسیؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے حضرت سلمان فارسی ؓ کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور فرمایا سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ(المستدرک کتاب معرفۃ الـصحابۃ باب ذکر سلمان الفارسی ) لَوْکَانَ الْاِیْـمَانُ عِنْدَ الثُّرَیَّا لَنَالَہٗ رِجَالٌ اَوْ رَجُلٌ مِّنْ ھٰؤُلَآءِ (بخاری کتاب التفسیر سورۃ الجمعہ )یعنی سلمان ہمارے اہلِ بیت سے ہے اگر کسی وقت ایمان ثریا تک اڑ گیا تو اس کے خاندان کے لوگ اسے وہاں سے واپس لے آئیں گے۔ظاہر ہے کہ سلمان ؓ ایرانی النسل تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے نہ تھے۔ان کو اولاد میں سے قرار دینا روحانی رشتہ کی طرف ہی اشارہ کرتا ہے پھر آپ کا یہ کہنا کہ اس کی نسل یا خاندان کے لوگ ایمان کو آسمان سے واپس لے آئیں گے۔اس کے یہی معنے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند اہل فارس میں سے ایک یا بعض وجود ایسا کام کریں گے۔چونکہ ایمان کے اٹھنے کا زمانہ احادیث سے مسیح اور مہدی کا زمانہ معلوم ہوتا ہے(مسلم کتاب الفتن باب فی خروج الدجال۔۔۔۔۔) اس حدیث سے ظاہر ہے کہ یہ فارسی الاصل ایمان لانے والا شخص مہدی آخر زمان ہو گا اور آیت کوثر میں مہدی ہی کی خبر دی گئی ہے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاروحانی بیٹا قرار دیا گیا ہے۔مسیح اور مہدی ایک ہی شخص ہے اگر کہا جائے کہ یہ پیشگوئی تو زیادہ سے زیادہ مہدی کی نسبت ثابت ہوتی ہے اور آپ آیت کوثر کو مسیح موعود پر چسپاں کر تے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ابن ماجہ میں ایک حدیث آتی ہے کہ لَا الْمَھْدِیُّ اِلَّا عِیْسٰی (ابن ماجہ کتاب الفتن باب شدۃ الزمان ) یعنی مہدی اور عیسیٰ ایک ہی شخص کے دو نام ہیں۔یہ دو الگ الگ وجود نہیں اور کوثر کا لفظ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایک ہی وجود ہو گا۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ ہم نے تجھے ایک وجود عطا کیا ہے۔اگر دو الگ الگ وجود ہوتے تو اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ کی بجائے اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَیْنِ فرمانا چاہیے تھا اور یہ کہنا چاہیے تھا کہ ہم نے تجھے دو وجود جو کوثر ہیں عطا کئے ہیں۔غرض ابن ماجہ کی روایت اور قرآن کریم کی یہ آیت دونوں کو ایک ثابت کرتی ہیں۔دوسرے معطاء کا لفظ