تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 171

گے اور میں اس کا لوگوں میں اظہار کر چکا ہوں۔اب امتحان کا وقت ہے۔تُو مجھے اپنے فضل سے کوئی ایسا مضمون سمجھا جو اس سے پہلے کسی کے ذہن میں نہ آیا ہو۔اس دعا کے بعد میں نے تقریر شروع کی اور یک دم خدا تعالیٰ نے میرے دماغ میں ایک ایسا مضمون ڈالا جو آج تک کسی تفسیر میں بیان نہیں ہوا۔میں نے کہا خدا تعالیٰ ہمیں سورہ ٔ فاتحہ میں ایک دعا سکھاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اے خدا نہ ہم مغضوب بنیں اور نہ ضال بنیں۔احادیث سے ثابت ہے کہ مغضوب علیھم سے مراد یہودی ہیں اور ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں۔پس ہم سے یہ دعا کروائی گئی ہے کہ اے خدا تُو ہمیں یہودیوں اور عیسائیوں کے نقش قدم پر چلنے سے بچا۔دوسری طرف اس بات پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی ہے اور پھر یہ ابتدائی سورتوں میں سے ایک ہے۔اب یہ ایک عجیب بات ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تھی اس وقت نہ یہودی آپ کے مخالف تھے نہ عیسائی۔آپ کے مخالف صرف مکہ کے مشرکین تھے اور اس وقت آپ کو دعا یہ سکھانی چاہیے تھی کہ اے اللہ ہمیں مشرک نہ بنا۔مگر بجائے اس کے قرآن کریم دعا یہ سکھاتا ہے کہ اے اللہ ہمیں یہودی اور عیسائی نہ بنا۔اس میں کیا راز ہے اور کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا تو ذکر نہ کیا جن کی مخالفت کا مکہ میں شدید زور تھا اور یہود و نصاریٰ کا ذکر کر دیا جو وہاں آٹے میں نمک کے برابر تھے۔اس میں یہ راز ہے کہ قرآن کریم کا نازل کرنے والا عالم الغیب خدا جانتا تھا کہ اس کی تقدیر کے ما تحت مکہ کا مذہب ہمیشہ کے لئے تباہ کر دیا جانے والا تھا اور آئندہ زمانہ میں اس کا نام و نشان تک نہ ملنا تھا۔پس جو مذہب ہی مٹ جانا تھا اس سے بچنے کی دعا سکھانے کی ضرورت ہی نہ تھی جو مذاہب بچ رہنے تھے اور جن سے روحانی یا مادی رنگ میں اسلام کا ٹکراؤ ہونا تھا ان کے بارہ میں دعا سکھا دی گئی۔پس کفار کا ذکر ترک کر کے اس سورۃ میں کفار مکہ کے مذہب کے تباہ ہونے اور یہودیوں اور مسیحیوں کا ذکر کرکے ان دو مذاہب کے قائم رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے جسے بعد کے واقعات نے نہایت روشن طور پر ثابت کر دیا ہے۔پس اس سورۃ کے ذریعہ سے ابتدائی ایامِ نبوت میں ہی اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کی کامل تباہی کا اس سورۃ میں اعلان فرما دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ آئندہ اسلام کا خصوصیت سے مقابلہ یہود اور نصاریٰ سے ہو گا اس لئے انہی کی شرارتوں سے تمہیں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے اور اس طرح قرآن کریم کی صداقت کا ایک عظیم الشان ثبوت سورۃ فاتحہ میں مہیا کر دیا گیا۔یہ نکتہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت میرے دل میں ڈالا اور واقعہ یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ سے یہ استدلال ایسا عجیب ہے کہ اس سے پہلے کبھی کسی مفسر کا ذہن اس طرف نہیں گیا۔اس کے بعد اور بھی سینکڑوں مضامین مجھے سورۃ فاتحہ سے سمجھائے گئے اور میرا دعویٰ ہے کہ اگر مجھ پر کوئی اعتراض کیا جائے اور مجھے اس وقت کوئی اور آیت یاد نہ ہو تو خدا تعالیٰ مجھے اس سورۃ سے ہی اس کا جواب سمجھا دے گا۔یہ