تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 170

کے درمیان جو جنگ جاری ہے اس کا فیصلہ کسی بڑے شہر میں نہیں ہو گا بلکہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہو گا جس کا نام قادیان ہے۔میں ابھی چھوٹا سا تھا میری عمر پندرہ سولہ سال کی ہو گی کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ جیسے کوئی کٹورہ ہو تا ہے اور اس کے اوپر کوئی چیز آکر گرے تو اس میں سے ٹن کی آواز نکلتی ہے اسی طرح اس میں سے ٹن کی آواز آئی۔پھر وہ آواز پھیلنی شروع ہوئی۔پھر مجسم ہوئی پھر وہ ایک فریم بن گئی پھر اس میں ایک تصویر بنی۔پھر وہ تصویر متحرک ہو گئی اور اس میں سے ایک وجود نکل کر میرے سامنے آیا اور اس نے کہا میں خدا تعالیٰ کا فرشتہ ہوں اور میں آپ کو سورہ ٔ فاتحہ کی تفسیر سکھانے کے لئے آیا ہوں۔میں نے کہا سکھاؤ۔اس نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر مجھے سکھانی شروع کی۔جب وہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پر پہنچا تو کہنے لگا آج تک جتنی تفسیریں لکھی ہیں وہ اس آیت سے آگے نہیں بڑھیں۔کیا میں آپ کو آگے بھی سکھاؤں۔میں نے کہاں ہاں۔چنانچہ اس نے مجھے اگلی آیات کی بھی تفسیر سکھا دی۔میری عمر اس وقت پندرہ سال کی تھی اور اب اس رؤیا پر چوالیس سال گذر گئے ہیں۔اس عرصہ ٔ دراز میں جو علوم خدا تعالیٰ نے مجھے سورۃ فاتحہ سے سکھائے ہیں ان کے ذریعہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر مذہب کا ردّ اس سورۃ سے کر سکتا ہوں اور پھر میرا دعویٰ ہے کہ سورہ فاتحہ میں دنیا کی تمام اقتصادی تھیوریوں کا جواب موجود ہے خواہ وہ بالشوزم ہو یا کیپٹل ازم ہو یا کوئی اور ہو۔میں نے بچپن کے ایّام میں ہی یہ رؤیا سب لوگوں کو سنا دیا تھا اور انہیں بتا دیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے سورہ ٔ فاتحہ کی تفسیر سکھائی ہے۔ایک دفعہ ہم امرتسر گئے۔ہمارے سکول کا خالصہ کالج امرتسر سے میچ ہوا جس میں ہم نے خالصہ کالج امرتسر کو شکست دی۔ہمارے لڑکے اچھے فٹ بال کھیلنے والے تھے۔ویسے تو وہاں احمدیت کی بہت مخالفت تھی مگر ایسے مواقع پر مختلف فرقے اکٹھے ہو جایا کرتے ہیں۔جب ہماری ٹیم سکھوں کے مقابلہ میں جیت گئی تو وہاں کے دوسرے مسلمانوں کو بھی بہت خوشی ہوئی اور انجمن اسلامیہ امرتسر نے ہمیں ایک پارٹی دی میں اس ٹیم میں شامل نہیں تھا۔صرف میچ دیکھنے کے لئے ساتھ چلا گیا تھا لیکن تھا طالب علم ہی۔پارٹی کے بعد انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کوئی تقریر کریں۔میں نے اس سے پہلے عام مجلس میں کبھی تقریر نہیں کی تھی۔مدرسہ میں تقریریں کی تھیں۔مگر وہاں بڑے بڑے لوگ بیٹھے تھے اور شہر کے رؤوسا موجود تھے اس لئے میں نے عذر کیا اور کہا کہ اس وقت میں تیار نہیں۔انہوں نے کہا کچھ بھی ہو آپ کسی موضوع پر تقریر کردیں۔میں نے دعا کی کہ خدایا تُو نے اپنے فرشتہ کے ذریعہ مجھے سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھائی ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ مجھے ہمیشہ اس سورۃ کے نئے معنے معلوم ہوتے رہیں