تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 169
اوپر کوثر کے ایک معنے اَلْـخَیْـرُ الْکَثِیْـر کے بھی بتائے جا چکے ہیں اور خیر کا لفظ اسلام اور دین کے معنوں میں ہی آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک الہام بھی ہے کہ اَلْـخَیْـرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ۔(کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۷) تمام قسم کی خیر اور بھلائی قرآن کریم میں ہی ہے۔پس جو شخص قرآنی معارف لٹاتا ہے وہ بالفاظ دیگر خیر تقسیم کرتا ہے۔اور یہی کام مسیح موعود کا بتایا گیا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ قرآنی دولت اس قدر لٹائی کہ جس کا کوئی انتہا نہیں۔اس دولت کا انکار غیروں نے تو کرنا ہی تھا خود مسلمانوں نے بھی بد قسمتی سے اس کو لینے سے انکار کر دیا۔وہ لوگ جنہوں نے اس دولت کو نہیں لیا وہ اس کی عظمت کو کیا سمجھ سکتے ہیں۔ہم لوگ جنہوں نے اس دولت کو قبول کیا ہے ہم جانتے ہیں کہ اس کی کیا عظمت ہے اور یہ کتنی قیمتی اور بے مثال چیز ہے۔ہم نے تو اس دولت سے اس قدر حصہ پایا ہے کہ ہمارے گھر بھر گئے ہیں۔مثلاً میرا اپنا وجود ہی ہے۔دنیوی لحاظ سے میں پرائمری فیل ہوں۔مگر چونکہ گھر کا مدرسہ تھا اس لئے اوپر کی کلاسوں میں مجھے ترقی دے دی جاتی تھی۔پھر مڈل میں فیل ہوا مگر گھر کا مدرسہ ہونے کی وجہ سے پھر مجھے ترقی دے دی گئی۔آخر میٹرک کے امتحان کا وقت آیا تو میری ساری پڑھائی کی حقیقت کھل گئی اور میں صرف عربی اور اردو میں پاس ہوا اور اس کے بعد پڑھائی چھوڑ دی گویا میری تعلیم کچھ بھی نہیں۔مگر آج تک ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے میرے سامنے قرآن کریم کے خلاف کوئی اعتراض کیا ہو اور پھر اسے شرمندگی نہ ہوئی ہو بلکہ اسے ضرور شرمندہ ہونا پڑا ہے اور اب بھی میرا دعویٰ ہے کہ خواہ کوئی کتنا بڑا عالم ہو۔وہ اگر قرآن کریم کے خلاف میرے سامنے کوئی اعتراض کرے گا تو اسے ضرور شکست کھانی پڑے گی اور وہ شرمندہ اور لا جواب ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔میں یوروپ بھی گیا ہوں، میں مصر بھی گیا ہوں، میں شام بھی گیا ہوں اور میں ہندوستان میں بھی مختلف علوم کے ماہرین سے ملتا رہا ہوں مگر ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے علمی اور مذہبی میدان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے فتح نہ پائی ہو۔بلکہ جب بھی انہوں نے مجھ سے کوئی گفتگو کی ہے انہیں ہمیشہ میری فوقیت اور میرے دلائل کی مضبوطی کو تسلیم کرنا پڑا ہے۔ایک دفعہ کچھ لوگ مجھے ملنے کے لئے قادیان گئے۔ان میں سے ایک مسٹر لیوکس تھے جو اس وقت فورمین کرسچین کالج کے پرنسپل تھے۔بعد میں ہندوستانی طلبا ء نے ان کی مخالفت کی کہ ہمیں انگریز پرنسپل نہیں چاہیے اس لئے ان کی جگہ مسٹر دتہ کو لگا دیا گیا۔ان کے ساتھ مسٹر ہیوم بھی تھے جو وائی۔ایم۔سی۔اے کے سیکرٹری تھے اور مسٹر والٹر بھی تھے جو ان کے لٹریری سیکرٹری تھے۔میرے سامنے انہوں نے بعض سوالات کئے جن کا میں نے جواب دیا اور ان کو ایسا شرمندہ کیا کہ مسٹر لیوکس نے سیلون میں جا کر ایک تقریر کی جس میں انہوں نے کہا کہ عیسائیت اور اسلام