تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 165
ظاہر ہوں گے اور جن میں سے ایک مسیح ہو گا اور دوسرا مہدی۔اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسلامی لٹریچر میں اتنی بڑی پیشگوئی اسلامی زمانہ کے کسی اور شخص کی نسبت نہیں اور جب ان کے علاوہ کوئی اور شخص ایسا ہے ہی نہیں جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی پیشگوئی کی ہو تو ثابت ہوا کہ جس شخص کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے وہ بھی ان دونوں موعودوں میں سے کوئی ایک ہے اور یا پھر ہمارے عقیدہ کے مطابق وہی شخص ہے جو بیک وقت مہدی بھی ہوگا اور مسیح بھی۔ہم یہ نہیں مان سکتے کہ یہ پیشگوئی کسی غیر معروف شخص کے متعلق ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس پیشگوئی کو اتنی عظمت دیتے ہیں کہ آپ فرماتے ہیں جب سے نبوت کا سلسلہ جاری ہوا ہے دنیا میں جتنے بھی انبیاء آئے ہیں وہ سب کے سب اس بڑے فتنے کی خبر دیتے آئے ہیں جو آخری زمانہ میں ظاہر ہو گا(بخاری کتاب الفتن باب ذکر الدجال) اور یہ ایک قدرتی امر ہے کہ جتنا بڑا فتنہ ہو گا اس کو دور کرنے والا بھی اتنا ہی بڑا انسان ہو گا۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا زور اس آخری زمانہ میں آنے والے کے متعلق دیا ہے اور احادیث ان پیشگوئیوں سے بھری پڑی ہیں۔اگر کوثر سے کوئی غیر معروف آدمی مراد لیاجائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جس شخص کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے اس کے متعلق خدا تعالیٰ خاموش ہے اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے خبر دی اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہیں اور یہ عقل کے خلاف ہے۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی چیز پر زور دے سکتے تھے جس پر خدا تعالیٰ نے زور دیا اور خدا تعالیٰ بھی اسی خبر کی تائید کر سکتا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔پس کوثر کے لفظ میں جو پیشگوئی ہے وہ اسی کے متعلق سمجھی جاسکتی ہے جسے مسیح اور مہدی کہا گیا ہے۔مسیح موعود کے آنے میں موسوی سلسلہ اور محمدی سلسلہ میں مشابہت (۲) دوسری دلیل ان معنوں کی تائید میں یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعا جو سورۃ بقرہ میں آئی ہے اور جس کا یہ جواب ہے۔وہ یہ تھی کہ اے اللہ تو اسمٰعیل (علیہ السلام)کی اولاد میں سے ایسا انسان پیدا کر جو یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ کا مصداق ہو۔یہ دعا جو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے متعلق کی گئی تھی درحقیقت اس دعا کے مقابل میں تھی جو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دوسرے بیٹے حضرت اسحٰق علیہ السلام کے متعلق کی تھی اور جس کا بائبل میں ذکر آتا ہے۔اس دعا کے طفیل حضرت اسحٰق علیہ السلام کی اولاد میں موسوی سلسلہ چلا جس کی پہلی کڑی حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے اور آخری کڑی حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے۔اب ضروری تھا کہ حضرت اسحٰق اور حضرت اسمٰعیل کا توازن قائم رکھنے کے لئے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں بھی کوئی ایسا انسان ہوتا جو حضرت موسٰی کا جواب ہوتا اور کوئی