تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 164

وغیرہ میں مدد ہو سکتی ہے دینی مدد نہیں۔یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ وہ آنے والا صرف آپ کا خادم نہیں ہو گا بلکہ آپ کی روحانی اولاد میں سے ہو گا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے یہ الفاظ بھی رکھ دیئے کہ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔تو دعائیں کر اور قربانیاں دے۔یعنی جس طرح بیٹے کی پیدائش پر شکریہ کے طور پر دعائیں کی جاتی ہیں اور عقیقہ میں قربانی کی جاتی ہے اسی طرح یہ جو تیرا روحانی خادم ظاہر ہونے والا ہے اس کی آمد پر بھی تو خدا تعالیٰ کا شکر یہ ادا کر اور اس کے حضور میں قربانیاں گذار۔اس آیت میں ان لوگوں کا بھی ردّ ہے جو یہ کہتے ہیں کہ امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے جس شخص کے آنے کا وعدہ ہے وہ باہر سے آئے گا امت محمدیہ میں سے نہیں ہوگا کیونکہ یہ آیت بتا رہی ہے کہ جس شخص کا یہاں ذکر ہے وہ اسی امت میں سے ہو گا باہر سے نہیں آئے گا۔مسلمانوں میں یہ غلط خیال پھیل گیا ہے کہ آخری زمانے میں جس آنے والے کی پیشگوئی کی گئی ہے اس سے مراد حضرت مسیح ناصری ؑ ہیں۔حالانکہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہی آنا تھا جو امت موسوی کے ایک فرد تھے۔تو پھر اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ نہیں کہنا چاہیے تھا بلکہ اِنَّآ اَعْطَیْنَا مُوْسَی الْکَوْثَر کہنا چاہیے تھا حضرت عیسیٰ ؑ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملے تھے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں ملے تھے مگر یہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ ہم نے تجھے کوثر بخشا ہے۔تو دعائیں کر۔تو عقیقہ اور قربانیاں کر۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ کوثر سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا ہے کیونکہ عقیقہ اور قربانیاں اور دعائیں اپنے بیٹے کی پیدائش پر کی جاتی ہیں کسی غیر کے بیٹے کے لئے نہیں کی جاتیں۔اوپر کے استدلال پر دو اعتراض ہو سکتے ہیں اوّل یہ کہ اگر اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ میں کسی موعود کا ذکر ہے توکیوں نہ سمجھا جائے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوا کوئی اور ہے یعنی ہم یہ کیوں مانیں کہ اس پیشگوئی میںحضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہی ذکر ہے کسی اور کا ذکر نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح پیشگوئی ایک آنے والے مسیح اور مہدی کے متعلق احادیث میں موجود ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں مسیح اور مہدی پیدا ہو گا جو امت محمدیہ کی اصلاح کرے گا۔اب یا تو یہ پیشگوئی ایک شخص کے متعلق ہے یا دو شخصوں کے متعلق ہے جو ایک ہی زمانہ میں آئیں گے۔ہمارے نزدیک یہ ایک ہی شخص کے متعلق پیشگوئی ہے جو مسیح بھی ہو گا اور مہدی بھی۔اور عام مسلمان اسے دو شخصوں پر چسپاں کرتے ہیں۔بہرحال یہ پیشگوئی خواہ ایک فرد کے متعلق ہو جو ہمارے نقطہ نگاہ سے مسیح بھی ہوگا اور مہدی بھی۔یا عام مسلمانوں کے نقطہ نگاہ کے مطابق دو شخصوں کے متعلق ہو۔جو ایک ہی زمانہ میں