تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 163

معنوں کی رو سے اس آیت کی یہ صورت ہو گی کہ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ رَجُلًا کَثِیْرُ الْعَطَاءِ وَالْـخَیْـرِ۔ہم تجھے ایک ایسا آدمی دیں گے جس میں عطا و خیر کثرت سے پائی جائے گی۔اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ اور فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ کے الفاظ سے جن کی تشریح آگے کی جائے گی۔یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ شخص جو آپ کو دیا جائے گا آپ کا روحانی فرزند ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا کہ ایک شخص ظاہر ہونے والا ہے بلکہ وہ فرماتا ہے اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ ہم نے تجھ کو بخشا ہے اورجو کسی کو بخشا جاتا ہے وہ اس کا غلام ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کے لحاظ سے دو نام تھے۔آپ کا نام احمدؐ بھی تھا اور آپ کا نام محمدؐ بھی تھا اب اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ میں ’’ک‘‘کی جگہ احمد رکھ دو تو آیت یوں بن جائے گی۔اِنَّاۤ اَعْطَيْنَا اَحْـمَدَ ہم نے بخشا ہے احمد کو اور چونکہ بخشا جانے والا وجود غلام کہلاتا ہے پس دوسرے لفظوں میں یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ایک غلامِ احمد دنیا میں آئے گا جو کثیر العطاء والخیر ہو گا اس آنے والے وجود کا آپ کے غلاموں میں سے ہونا اوّل تو اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ کے الفاظ سے ہی ظاہر ہوتا ہے کیونکہ دے دینے کا دو ہی لفظوں میں ترجمہ کیا جا سکتا ہے۔یا تو یہ ترجمہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ آپ کا صُلبی بیٹا ہو گا اور یا یہ ترجمہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ آپ کا روحانی فرزند یعنی غلام ہو گا۔اور چونکہ سورۂ احزاب میں صُلبی بیٹے کی نفی کی گئی ہے اس لئے صرف یہ معنے رہ گئے کہ وہ آپ کا روحانی فرزند یعنی غلام ہوگا۔اگلی آیت بھی اسی مفہوم کو واضح کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ہم تجھے غلام احمد بخشنے والے ہیں اس کے نتیجہ میں تو دعائیں کر اور قربانیاں دے۔قربانیاں اور دعائیں ہمیشہ بیٹے کی پیدائش پر کی جاتی ہیں۔چنانچہ جب کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو تا ہے تو اسلامی تعلیم کے مطابق اس کا سر مونڈا جاتا ہے، قربانی کا بکرا بطور عقیقہ دیا جاتا ہے اور کچھ صدقہ و خیرات بھی کیا جاتا ہے گویا دعا بھی ہوتی ہے اور قربانی بھی ہوتی ہے۔پس فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ یہاں کسی روحانی بیٹے کا ذکر ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا آدمی ملنے کے یہ معنے ہیں کہ وہ آپ کی روحانی اولاد میں سے ہو گا۔صرف ظاہری خادم نہیں ہو گا کیونکہ مادی خادم کے متعلق یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنے آقا کے طریق کا بھی پابند ہو جیسے کئی لوگ مسلمان ہوتے ہیں لیکن وہ کسی ہندو یا عیسائی کو بھی خادم رکھ لیتے ہیں۔پس خادم کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنے آقا کے طریق کا بھی پابند ہو۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اِنَّ اللہَ لَیُؤَیِّدُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِر (بخاری کتاب الـجھاد والسیر باب اِنَّ اللّٰہَ یُؤَیِّدُ ھٰذَ الدِّیْنَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِر ) بعض دفعہ ایک فاجر انسان کے ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ اپنے دین کی تائید کا کام لے لیتا ہے۔مگر اس سے مراد دنیوی تائید ہے دینی تائید نہیں۔کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ دینی تائید کے مستحق دینداروں کو اللہ تعالیٰ چھوڑ دے اور کسی بے دین کو اس کے لئے چن لے۔پس اس امداد سے مراد مالی مدد یا لڑائی