تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 162

فرمایا ہے اور ہر چیز آپ کی خواہش اور مطالبہ اور دعا سے بہت بڑھ کر دی ہے۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔میں اوپر بتا چکا ہوں کہ کوثر کے ایک معنے اَلرَّجُلُ الکَثِیْـرُ الْعَطَاءِ وَالْـخَیْـرِ کے بھی ہیں۔یعنی ایسا آدمی جو بہت بخشش کرنے والا اور بہت بھلائی والا ہو اور یہ معنے لغت کی کتاب المفردات فی غریب القرآن میں بھی بیان ہوئے ہیں جو مسلمانوں میں سب سے معتبر کتاب لغت قرآن کی سمجھی جاتی ہے۔اس کے مؤلف کا نام ابو القاسم الحسین ابن محمد الراغب الاصفہانی ہے۔جو عام طور پر امام راغب کہلاتے ہیں اور بعض مورخین ان کو صرف اصفہانی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔میں اس کتاب کا حوالہ اپنی تفسیر میں کم دیتا ہوں کیونکہ ہماری کتب میں یوروپین لوگوں کے زہریلے اثرات کا دفاع زیادہ مدّ ِنظر ہوتا ہے اور وہ ایسی لغات پر کم یقین رکھتے ہیں جو تفسیری رنگ رکھتی ہیں۔اس لئے ان کے خیال سے میں زیادہ تر ایسی لغات کا حوالہ دیتا ہوں جو خالصاً ادبی ہوں اور خصوصاً جن کے مصنف مسیحی ہوں تا یوروپین لوگوں یا مغرب زدہ لوگوں کے لئے محل ِ انکار باقی نہ رہے۔مگر چونکہ یہ معنے جن کا میں ذکر کرنے لگا ہوں مسلمانوں سے خاص تعلق رکھتے ہیں میں نے اس لغت کا خاص طور پر حوالہ دیا ہے۔یوں یہ معنے اس لغت سے مخصوص نہیں بلکہ اس کے علاوہ تاج العروس وغیرہ بڑی لغت کی کتب میں بھی مذکور ہیں اور ادیب گروہ کی بھی کامل تائید ان کو حاصل ہے۔امام راغب فرماتے ہیں اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ۔قِیْلَ ھُوَ نَـھْرٌ فِی الْـجَنَّۃِ یَتَشَعَّبُ مِنْہُ الْاَنْـھَارُ۔یعنی کوثر جنت کی ایک نہر کو کہتے ہیں جس سے دوسری نہریں نکلتی ہیں وَقِیْلَ بَلْ ھُوَ الْـخَیْـرُ الْعَظِیْمُ اَعْطَاہُ اللہُ الرَّسُوْلَ الْکَرِیْمَ۔اور بعض کے نزدیک کوثر وہ خیر عظیم ہے جو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی۔وَقَدْ یُقَالُ لِلرَّجُلِ السَّخِیِّ الْکَوْثَر اور کوثر سخی آدمی کو بھی کہاجاتا ہے۔اقرب الموارد نے بھی علاوہ ان معنوں کے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔یہ معنے بیان کئے ہیں کہ اَلسَّیِّدُ الْکَثِیْرُ الْـخَیْرِ۔ایسا سردار جو خیر کثیر والا ہو۔اَلرَّجُلُ الْکَثِیْرُ الْعَطَاءِ وَالْـخَیْرِ۔ایسا شخص جو بہت سخی ہو اور بڑی خیر والا ہو۔گویا نَـھْرٌ فِی الْـجَنَّۃِ اور الْکَثِیْـرُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ کے علاوہ کوثر کے ایک تیسرے معنے بھی ہیں جن کو مفسرین نے بھی تسلیم کیا ہے اور لغت قرآن والوں نے بھی تسلیم کیا ہے اور وہ یہ ہیں کہ اَلرَّجُلُ الْکَثِیْرُ الْعَطَاءِ وَالْـخَیْـرِ۔ایسا آدمی جس میں عطاء و خیر کثرت سے پائی جاتی ہو اور جو انتہا درجہ کا سخی انسا ن ہو۔پس اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ کے ایک معنے یہ ہوئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ایک ایسا شخص پیدا ہو گا جو کثیر العطاء و الخیر ہو گا۔ان