تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 155

الزکٰوۃ باب اخذ صدقۃ التـمر عند صرام النخل۔۔۔۔۔) (۲۴) آپ کے جذبہ احسان مندی کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ آپ نے ایک لشکر لے کر طے قبیلے پر حملہ کیا۔انہیں شکست ہوئی اور وہ سب قید ہو گئے۔جب وہ قیدی بناکر آپ کے سامنے لائے گئے تو آپ کے سامنے ایک لڑکی پیش ہوئی اس نے آگے بڑھ کر کہا۔آپ جانتے ہیں میں کون ہوںرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نہیں جانتا۔اس لڑکی نے کہا میں اس باپ کی بیٹی ہوں جس کی سخاوت کے ذکر سے سارا عرب گونج رہاہے۔وہ حاتم طائی کی بیٹی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا باپ محسن تھا اور وہ دنیا کے ساتھ نیکی کا سلوک کرتا تھا۔ہم ایسے باپ کی لڑکی کو قید کرنا نہیں چاہتے۔چنانچہ آپ نے اسے آزاد کر دیا اس لڑکی نے پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں یہ ناپسند کرتی ہوں کہ میں تو آزاد ہو جاؤں اور میرے قبیلے کے سب افراد قید ہوں۔آپ نے فرمایا اچھا وہ بھی آزاد ہیں۔پھر اس لڑکی نے اپنے بھائی کی سفارش کی جو بھاگا ہو اتھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سفارش کو بھی مان لیا(السیرۃ الـحلبیۃ سریۃ علی بن ابی طالب) حاتم طائی کا اسلام پر کوئی احسان نہیں تھا وہ صرف اپنے علاقہ میں سخاوت کے لئے مشہور تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کے لئے اس نے کوئی کام نہیں کیا تھا۔اس کی قوم آپ سے لڑی تھی اور لڑائی میں قید ہو کر آئی تھی لیکن آپ نے محض اس وجہ سے کہ وہ غریبوں پر احسان کیا کرتا تھا اس کے سارے قبیلے کو معاف کردیا اور فرمایا ہم ایسے شخص کی قوم کو قید نہیں کر سکتے جو اپنی زندگی میں غریبوں پر احسان کیا کرتا تھا۔(۲۵) آپ کی مہمان نوازی کا یہ حال تھا کہ آپ کے پاس ایک دفعہ ایک یہودی آیا اور اس نے کہا میں آپ سے اسلام کی باتیں سننا چاہتا ہوں۔آپ نے اسے اپنے ہاں ٹھہرایا اور بڑی خاطر مدارات کی۔وہ یہودی ایک دو دن آپ کے پاس رہا اور آپ اسے تبلیغ کرتے رہے ایک دن وہ چپکے سے چلا گیا اور اس کپڑے پر جو اسے فرش پر بچھانے کے لئے دیا گیا تھا پاخانہ پھر گیا(ان دنوں چارپائیوں کا رواج نہ تھا)رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیٹھ کر اس کپڑے کو دھلوایا۔ایک عورت جو پانی ڈال رہی تھی اس نے اس یہودی کے متعلق سخت کلامی کی اور کہا خدا تعالیٰ اس شخص کا بیڑا غرق کرے جو اس طرح کپڑے پر پا خانہ کر گیاہے۔آپ نے فرمایا ایسی بد دعائیں مت دو تمہیں کیا پتہ ہے کہ اسے کیا تکلیف تھی۔شاید اس کے پیٹ میں خلل ہو۔(۲۶)آپ بادشاہ ہوئے مگر بادشاہت میں بھی آپ نے غربت کو پسند کیا۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت فاطمہؓ آپ کے پاس تشریف لائیں اور انہوں نے آپ کو اپنے ہاتھ دکھائے ان کے ہا تھوں پر چھالے پڑے ہوئے تھے۔