تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 153
ابوسفیان نے کہاہم آپ کی قوم ہیں ہمیں معاف کر دیا جائے۔تو آپؐنے فرمایا اچھا جو خانہ کعبہ میں داخل ہوجائے گا اسے معاف کر دیا جائے گا، جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا اسے معاف کر دیاجائے گا اور جو اپنے گھروں کے دروازے بند کر لیں گے انہیں بھی معاف کر دیا جائے گا۔اس کے یہ معنے تھے کہ سب کے لئے ہی معافی کا راستہ کھول دیا گیا تھا اور بلالؓکے ولولے اس کے دل ہی میں سڑ جانے والے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے اپنے دشمنوں کے جذبات کا اتنا خیال کیا اپنے ایک مخلص سپاہی کو کب نظر انداز کر سکتے تھے۔آپ نے اوپر کے تین احکام کے ساتھ ایک چوتھا حکم اور دیا کہ میں بلال ؓ کے ہاتھ میں ایک جھنڈا دیتا ہوں جو شخص بلالؓ کے جھنڈے تلے آکر کھڑا ہو جائے گا اسے بھی کچھ نہیں کہا جائے گا۔اس طرح آپ نے اپنی طرف سے دی گئی معافی کو بلالؓ کی طرف منتقل کر دیا اور معافی کی شکل یہ بنادی کہ میں معاف نہیں کرتا بلال معاف کرتا ہے۔اس طرح بلالؓ کا دل ٹھنڈا کر دیا اور اسے یہ فخر بخش دیا کہ اس پر ظلم کرنے والے اس کی پناہ میں آنے اور اس کے معافی دینے سے بخشے جائیں گے اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلالؓ کا بدلہ بھی لے لیا اور مکہ والوں کو معافی بھی دے دی۔آپ نے حضرت بلالؓ کا بھی خیال رکھا اور اس کے جذبات کومجروح نہ ہونے دیا اور مکہ والوں کا بھی خیال رکھا اور انہیں معاف فرما دیا گویا اس رنگ کے انتقام کے ذریعہ آپ نے ایک طرف حضرت بلال کا سر اونچا کیا اوردوسری طرف مکہ والوں کو بھی عذاب سے نجات دلوادی۔(۲۱) بہادری اور توحید کا مظاہرہ جو آپ نے جنگ حنین کے موقعہ پر کیا اس کی مثال بھی دوسرے انبیاء پیش کرنے سے عاجز ہیں۔سینکڑوں تیر انداز دو رویہ کھڑے تھے۔اسلامی لشکر تتر بتر ہو چکا تھا اور چار ہزار کے لشکر میں آپ گھر ے ہوئے تھے۔ایسی خطر ناک حالت میں آپ نے دشمن کی ذرا بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے اکیلے اس کی طرف بڑھنا شروع کیا۔حضرت ابو بکرؓ نے کہا یا رسول اللہ آپ آگے نہ بڑھیں۔پہلے پیچھے ہٹ کر لشکر کو اکٹھا کیاجائے اور پھر حملہ کیا جائے مگر آپ نے فرمایا۔ابو بکرؓ میرے گھوڑے کی لگام چھوڑ دو۔پھر آپ نے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور با آواز بلند کہا اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب (بخاری کتاب المغازی باب قول اللہ تعالٰی وَّ يَوْمَ حُنَيْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ۔۔۔) میں نبی ہوں۔جھوٹا نہیں مگر اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ دشمن کے تیروںاور تلواروں کی پروا نہ کرتے ہوئے میں