تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 150
کو جو پہرہ پر مقرر تھے کہا کہ ایک یہودی دیوار سے جھانک رہاہے اٹھو اور اس کو مارو حضرت حسان ؓ کمزور دل آدمی تھے انہوں نے کہا کہ کوئی راہ گیر ہو گا آپ کو یوں ہی وہم ہو گیا ہے۔حضرت صفیہ ؓ نے تو خود دیکھا تھا کہ وہ جھا نک رہاہے انہوں نے ایک بانس اٹھایا اور پیچھے سے جا کر اس کے سر پر مارا اور وہ گر گیا۔جب وہ گرا تو ننگا ہو گیا۔حضرت صفیہ ؓ نے حسان بن ثابتؓ سے کہا اب تو جاؤ۔حسانؓ نے کہا میں تو نہیں جا سکتا تم خود ہی مارو شاید اس میں کوئی دم باقی ہو حضرت صفیہؓ نے پردہ کیا منہ پر چادر ڈالی اور چونکہ وہ ننگا ہو چکا تھا اس لئے پہلے اس پر کپڑا ڈالا اور پھر اس کے سر کو کچل دیا(البدایۃ و النـھایۃ غزوۃ خندق) جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو متواتر ایسی اطلاعات پہنچیں کہ یہودیوں نے مخالفانہ کا رروائی شروع کر دی ہے اور انہوں نے جاسوس بھی بھیجنے شروع کر دیئے ہیں اور شاید جلد حملہ ہو جائے گا تو آپ نے عورتوں کی حفاظت کے لئے پانچ سو کے دو لشکر مقرر کر دیئے جن میں سے ایک دو سو کا تھا اور ایک تین سو کا تھا اور دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے صرف سات سو مسلمان رہ گئے۔یہ ایک کمزور طبقہ کی امداد کے لئے کتنی شاندار قربانی تھی جو آپ نے کی کہ فوج کے ایک معتد بہ حصہ کو جس نے شہر کی حفاظت کرنی تھی لشکر سے کاٹ کر عورتوں کی حفاظت کے لئے بھیج دیا۔یہ ثبوت تھا اس بات کا کہ آپ عورتوں کی حفاظت کے لئے بڑی سے بڑی قربانی کرنے کے لئے بھی تیار تھے۔(۱۸) جنگ بدر کے موقعہ پر بھی آپ نے اپنے خلق عظیم کا ثبوت دیا۔حضرت عباسؓ جو ان دنوں مسلمان نہیں ہوئے تھے وہ بھی اس جنگ میں شریک تھے۔آپ خفیہ طور پر تو مسلمان ہو چکے تھے مگر جب کفار لڑائی کے لئے آنے لگے تو ان کو بھی ساتھ لے آئے۔یہ آنے کو تو آ گئے مگر ادھر ادھر وقت ٹلاتے رہے۔جب کفار کو شکست ہوئی تو مسلمانوں نے حضرت عباسؓ کو بھی قید کر لیا اس زمانہ میں ہتھکڑیاں تو تھیں نہیں اور نہ ہی کانٹے دار تار ہوا کرتی تھی۔رسیوں سے ہی قیدیوں کو باندھ کر ان کی حفاظت کرتے تھے اور رسیاں ذرا زور سے باندھتے تھے جس سے قیدی کو تکلیف ہوتی تھی صحابہ ؓ کہتے ہیں کچھ دور جا کر ہم نے منزل کی تو ہم نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہیں آتی۔ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ بات کیاہے۔بعض نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ حضرت عباس ؓ سے محبت ہے ان کے کراہنے کی وجہ سے آپ کو تکلیف ہو رہی ہے۔اس پر صحابہؓ نے فیصلہ کیا کہ حضرت عباسؓ کی رسیاں ڈھیلی کر دی جائیں چنانچہ انہوں نے آہستہ سے جا کر حضرت عباسؓکی رسیاں ڈھیلی کر دیں جب ان کی رسیاں ڈھیلی کر دی گئیں تو انہوں نے کراہنا بند کر دیا۔جہاں محبت ہو تی ہے وہاں وہم بھی ہو تا ہے۔تھوڑی دیر تک جب حضرت عباس کے کراہنے کی آوا ز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ آئی تو آپ نے خیال کیا کہ شاید آپ تکلیف کی وجہ