تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 149

میں بعض مسلمانوں نے ۲۴ ہزار تک بھی تعداد لکھی ہے لیکن میرا اندازہ پندرہ ہزار کے قریب قریب ہے۔اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی بھی مختلف تعدادیں بتائی گئی ہیں۔بعض نے مسلمانوں کی تعداد زیادہ بتائی ہے اور بعض نے کم بتائی ہے لیکن مجھے جہاں تک تاریخوں کے مطالعہ سے معلوم ہوا ہے اسلامی لشکر کی بارہ سو کی تعداد زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔اس جنگ میں کفار نے مدینہ کے ایک یہودی قبیلہ سے جو باقی رہ گیا تھا خفیہ معاہدہ کر لیا کہ جب حملہ بڑھ جائے تو وہ پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کر دیں۔مدینہ کے ایک طرف میدان تھا جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھدوائی ہوئی تھی۔ایک طرف یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا جس سے مسلمانوں کا معاہدہ تھا۔آپ نے خیال کیا کہ یہ قبیلہ بھی ہمارے ساتھ ہے اس لئے یہ طرف بھی محفوظ ہے۔تیسری طرف ایک پہاڑ تھا جس کے متعلق خیال تھا کہ دشمن اس طرف سے نہیں آئے گا اور اگر آیا تو ہمیں پتہ لگ جائے گا اور ہم ان کے حملہ کو روک سکیں گے چوتھی طرف متواتر مکان واقع تھے اور ایک دیوار سی بنی ہوئی تھی۔گویا ایک طرف پہاڑ کی حفاظت تھی۔دوسری طرف معاہد یہودی قبیلہ تھا۔ایک طرف مکانوں کی دیوار بنی ہوئی تھی اور ایک طرف میدان تھا جس میں آپ نے خندق کھدوائی تھی۔جب کفار کے لشکر نے دیکھا کہ سامنے سے مقابلہ کرنے میں ہم کامیاب نہیں ہوسکتے تو انہوں نے یہودیوں سے سازباز کی اور انہیں مسلمانوں کے خلاف اکسایا اور وہ بھی ان کے ساتھ مل گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کی طرف سے مطمئن تھے۔انصارؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا بھی کہ یہودیوں کا اعتبار نہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہمارا ان سے معاہدہ ہے تم کیوں ان پر بد ظنی کرتے ہو۔مگر جب زیادہ خبریں آنی شروع ہوگئیں تو دو انصاری صحابی جو ان سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے پتہ لینے کے لئے بھجوائے گئے۔ان سے جو یہودیوں نے باتیں کیں ان سے معلوم ہوتاتھا کہ وہ ضرور غداری کر جائیں گے۔ان دو صحابیوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رپورٹ کی کہ حالات اچھے نظر نہیں آتے لیکن آپ نے پھر بھی معاہدہ کا احترام کیا اور فرمایا ہمارا حق نہیں کہ ہم معاہدہ توڑیں( السیرۃ النبویۃ لابن ھشام غزوۃ خندق والبدایۃ والنـھایۃ غزوۃ خندق) ان ایام میں آپ نے عورتوں کو حفاظت کے لئے دو جگہ پر اکٹھا کر دیا تھا کچھ عورتوں کو تو دو منزلہ مکانات پر جمع کر دیا گیا تھا اور اپنے خاندان کی عورتوں یا ان صحابہ کی عورتوں کو جن کے متعلق خیال تھا کہ دشمن زیادہ زور کے ساتھ ان پر حملہ کرے گا اور جن کی بے حر متی سے قوم کی بے حر متی ہو سکتی تھی ان کو آ پ نے ایک جگہ پر اکٹھا کر دیا تھا۔وہ جگہ جہاں یہ عورتیں جمع تھیں یہودیوں کی طرف تھی۔حضرت صفیہ ؓ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں ایک دفعہ پھر رہی تھیں کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک یہودی دیوار پر سے جھانک رہا ہے۔حضرت صفیہ ؓ نے حسان بن ثابتؓ