تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 11
تکذیبِ دین کے نتیجہ میں انسان نیکیوں سے محروم رہ جاتا ہے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں )اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کر نے والا(اور)بار بار رحم کرنے والا ہے( شروع کرتا ہوں ) اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ۰۰۲ (اے نبی )یقیناً ہم نے تجھے کوثر عطا کیا ہے۔حلّ لُغات۔اَلْكَوْثَرُ۔اَلْكَوْثَرُکے معنے ہیں(۱) اَلْکَثِیْرُ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ۔ہر چیز کاکسی کے پاس کثرت سے پایاجانا (۲) السَّیِّدُ الْکَثِیْـرُ الْـخَیْـرِ۔قوم کا سردار جس کے اندر بڑی خیر اور برکت پائی جاتی ہو۔(۳)اَلرَّجُلُ الْکَثِیْـرُ الْعَطَاءِ وَالْـخَیْـرِ۔ایسا انسان جو بڑا سخی ہو اور دنیا میں بڑی کثرت سے نیکیاں پھیلانے والا ہو۔(۴) نَـھْرٌ فِی الْـجَنَّۃِ۔کوثر ایک نہرکا بھی نام ہے جو جنت میں پائی جاتی ہے۔(اقرب) اَلْکَوْثَر کے لغوی معنے نہر کے نہیں اقرب الموارد کے مؤلف نے جو کوثر کے ایک معنے نَـھْرٌ فِی الْجَنَّۃِ کے کئے ہیں یہ معنے لغت کے نہیں اور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے پہلے جو لفظ ِ کوثر عرب میں استعمال ہوتا تھا اس کے یہ معنے سمجھے جاتے تھے۔بلکہ جب کوثر کالفظ قرآن کریم اور احادیث میں استعمال ہوا اور مسلمانوں نے بتایا کہ کوثر ایک نہر کا نام ہے جو جنت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہو گی تو عرب میں یہ معنے بھی رائج ہو گئے اور لغت والوں نے مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق ان معنوں کو بھی کتب لغت میں درج کردیا۔ورنہ اس لفظ کے اصل معنے وہی تین۳ ہیں جو اوپر درج کئے گئےہیں۔کوثر کے معنے نَـھْرٌ فِی الْـجَنَّۃ کے کرنے کی بنیاد کوثر کے ان معنوں کی بنیاد کہ یہ جنت کی ایک نہر کا نام ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعض احادیث پر ہے جو بخاری اور مسلم دونوں میں پائی جاتی ہیں چنانچہ روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اَتَيْتُ عَلٰى نَـهْرٍ حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُوءِ الْمُـجَوَّفِ فَقُلْتُ مَا هٰذَا يَا جِبْرِيْلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ (بخاری کتاب التفسیر باب سورۃ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ) یعنی میں ارتقا ء کرتے کرتے جنت میں ایک مقام پر پہنچا جہاں مجھے ایک نہر نظر آئی جس کے کنارے کھوکھلے موتیوں کے بنے ہوئے گنبدوں کی مانند تھے میں نے جبریل سے