تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 141
اسلام کی نہایت شاندار خدمات سر انجام دیں۔یہ وہ غیر معمولی استقلا ل تھا جس نے آپ کو کامیاب کیا اور یہی وہ استقلال ہے جس کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب سے بڑا معجزہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک دیوانگی اور جنون پیدا نہ ہو اس وقت تک تبلیغ کامیاب نہیں ہو اکرتی۔(البدایۃ والنـھایۃ فَصْلٌ فِي عَرْضِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ الْكَرِيمَةَ عَلَى أحياء العرب) (۹) جب لوگوں نے آپ کو ایذائیں دیں اور آ پ پر مظالم توڑے تو آپ نے غیر معمولی ضبط نفس اور خیرخواہی کا ثبوت دیا۔آپ جب طائف تشریف لے گئے اور لوگوں کو تبلیغ کی تو انہوں نے آپ کے پیچھے کتے لگا دیئے اور آپ پر پتھراؤ کیا۔آپ واپس تشریف لے آئے۔مگر ایسی حالت میں کہ لوگ آپ کو پتھر مارتے جاتے تھے اور آپ کے پیچھے کتے لگے ہوئے تھے۔یہ حالت دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی غیرت نے جوش مارا اور اس نے فرشتوں کو حکم دیاکہ جاؤ اور میرے رسول کی مدد کرو۔چنانچہ آپ کو ایک فرشتہ دکھائی دیا اور اس نے کہا میں اس پہاڑی پر مقرر ہوں جو آپ کے سامنے ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے آپ کی مدد کے لئے بھیجا ہے۔اگر حکم ہو تو اس پہاڑی کو اٹھا کر طائف والوں پر پھینک دوں اور انہیں تباہ کر دوں۔آپ نے فرمایا۔نہیں نہیں۔اگر یہ لوگ تباہ ہو گئے تو پھر ایمان کون لائے گا۔سر سے پاؤں تک آپ زخمی ہیں،ٹخنوں سے خون بہہ رہاہے۔مگر ہمدردی کا یہ عالم ہے کہ اس حالت میں بھی طائف والوں کی خیر خواہی مدّ ِنظر ہے اور یہ نہیں چاہتے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ہلاک ہوں۔مکہ والوں نے کچھ جائیداد طائف کے پاس بھی خریدی ہوئی تھی۔چونکہ طائف کی زمین میں زراعت ہوسکتی تھی اس لئے مکہ کے رؤوسا نے وہاں زمینیں خریدی ہوئی تھیں اور باغ وغیرہ لگائے ہوئے تھے طائف سے سات آٹھ میل باہر مکہ کے ایک رئیس کا باغ تھا جو آپ کا شدید ترین دشمن تھا وہاں آکر آپ بیٹھ گئے۔زید ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے۔وہ رئیس اس نظارہ کو دیکھ کر برداشت نہ کر سکا۔اس نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور کہا وہ جو دو آدمی بیٹھے ہیں باغ سے اچھے اچھے انگور توڑ کر انہیں کھلاؤ۔وہ غلام نینوا کا باشندہ تھا۔جب آپ کے پاس پہنچا تو آپ نے اس سے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟اس غلام نے جواب دیا میں نینوا کا باشندہ ہوں۔آپ نے فرمایااچھا تم میرے بھائی یونس علیہ السلام کے ملک کے ہو آؤ میں تمہیں خدا تعالیٰ کی باتیں سناؤں۔آپ کو اپنے زخم بھول گئے،بھاگنا بھول گیا،تھکاوٹ بھول گئی اور تبلیغ شروع کر دی۔وہ غلام عیسائی تھا اور اس نے آنے والے موعود کے متعلق باتیں سنی ہوئی تھیں۔اس پر آپ کی تبلیغ کا اتنا اثر ہوا کہ وہ آپ کے قدموںمیں جا پڑا اور اپنے بالوں سے آپ کے پاؤں کا خون پونچنے لگا اور انہیں چومنے لگ گیا۔آپ کا دشمن رئیس بھی اس کے پیچھے آیا۔اس سے ہمدردی کا