تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 140
حضرت حمزہ ؓ نے پو چھا کیا ہوا۔لونڈی نے سارا واقعہ سنا دیا۔آخر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشہ دار تھے اور آپ کی باتیں انہوں نے سنی ہوئی تھیں مگر کبھی غور نہیں کیا تھا۔اب جو یہ واقعہ ہوا تو غیرت جوش میں آگئی اور وہ اسی وقت واپس گئے اور خانہ کعبہ میں پہنچے جہاں ابو جہل اور مکہ کے دوسرے رؤوسا بیٹھے ہوئے تھے اور اسلام کے خلاف باتیں کر رہے تھے۔انہوں نے جب حضرت حمزہ ؓ کو دیکھا تو آپ کے بیٹھنے کے لئے جگہ بنادی کیونکہ وہ بھی ایک رئیس تھے۔مگر حضرت حمزہ ؓ نے اس طرف کوئی توجہ نہ کی۔اور آگے بڑھ کر ابو جہل کے منہ پر کمان مار کر کہا تو نے آج میرے بھتیجے کو مارا ہے۔اس نے تجھے کچھ نہیں کہا۔لیکن اب میں نے ساری قوم کے سامنے تیرے منہ پر کمان ماری ہے اگر ہمت ہے تو مجھے مار۔مذہبی تعصب کی وجہ سے دوسرے رؤوسا کو غصہ آگیا اور انہوں نے حضرت حمزہ ؓ کو مارنا چاہا مگر ابو جہل نے رو ک دیا اور کہا واقعہ میں آج مجھ سے کچھ زیادتی ہو گئی تھی اور میں اسے محسوس کرتا ہوں۔اس کے بعد اسی جوش کی حالت میں حضرت حمزہ ؓ خانہ کعبہ سے لوٹے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لے گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ پر ایمان لاتا ہوں۔یہ ایمان جو حضرت حمزہ ؓ کو نصیب ہوا کس بات کا نتیجہ تھا۔اسی غیر معمولی صبر کا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا۔( السیرۃ الحلبیۃ باب استخفائہ واصحابہ فی دار الارقم) (۸) جب لوگوں نے آپ کی باتیں سننے سے انکار کر دیا تو آپ مایوس نہیں ہوئے۔ایسی حالت میں عام طور پر کمزور لوگ گھبرا کر یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ لوگ تو ہماری باتیں سنتے ہی نہیں ہم تبلیغ کسے کریں۔مگر آپ گھبرائے نہیں بلکہ استقلال کے ساتھ آپ نے اپنے کام کو جاری رکھا۔آپ اپنی زندگی اس غرض کے لئے وقف سمجھتے تھے اور دن رات اسی کام میں لگے رہتے تھے۔عکاظ کے میلہ پر آپ جاتے اور خدائے واحد کی تبلیغ کرتے۔اسی طرح جہاں کہیں آپ کو کچھ آدمی اکٹھے نظر آتے آپ ان کے پاس پہنچ جاتے اور فرماتے اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو خدا تعالیٰ کی باتیں سناؤں مکہ والوں نے لوگوں میں یہ مشہور کر رکھا تھا کہ آپ پاگل ہیں۔جب آپ کہتے کہ اگر آپ چاہیں تو میں خدا تعالیٰ کی باتیں آپ کو سناؤں تو وہ ایک دوسرے کو آنکھ مار کر کہتے کہ یہ وہی مکہ والا پاگل ہے اور کھسک جاتے۔پھر آپ دوسرے گروہ کے پاس جاتے اور فرماتے اگر آپ چاہیں تو میں خدا تعالیٰ کی باتیں آپ کو سناؤں۔وہ بھی یہ بات سنتے اور آنکھ مار کر ایک دوسرے سے کہتے یہ وہی مکہ کا پاگل ہے اور کھسک جاتے۔اس طرح آپ سارا دن وہاں چکر لگاتے رہتے۔کبھی ایک گروہ کے پا س جاتے اور کبھی دوسرے کے پاس۔مگر لوگ آپ کی باتیں سننے سے انکار کر دیتے۔لیکن پھر انہی میں سے ایسے لوگ پیدا ہو گئے جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے