تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 137

(۴) پھر جب حضرت خدیجہؓ نے آپ سے شادی کی تو آپ سمجھ گئیں کہ میں مالدار ہوں اور یہ غریب ہیں۔آپ کو جب ضرورت ہو گی مجھ سے مانگنا پڑے گا اور یہ بات شاید آپ برداشت نہ کر سکیں پھر زندگی کیسے گذرے گی۔آپ بڑی ہو شیار اور سمجھ دار خاتون تھیںآپ نے خیال کیا کہ اگر ساری دولت آپ کی نذر کر دوں تو پھر آپ کو کوئی ایسا احساس نہیں ہو گا کہ یہ چیز بیوی نے مجھے دی ہے بلکہ آپ جس طرح چاہیں گے خرچ کر سکیں گے۔چنانچہ شادی کو ابھی چند دن ہی گذرے تھے کہ حضرت خدیجہ ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں ایک تجویز پیش کرنا چاہتی ہوں اگر آپ اجازت دیں تو پیش کروں۔آپ نے فرمایا وہ کیا تجویز ہے۔حضرت خدیجہ ؓ نے کہا میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اپنی ساری دولت اور اپنے سارے غلام آپ کی خدمت میں پیش کر دوں اور یہ سب آپ کا مال ہوجائے۔آپ قبول فرمالیں تو میری بڑی خوش قسمتی ہو گی۔آپ نے جب یہ تجویز سنی تو آپ نے فرمایا خدیجہ ؓ کیا تم نے سوچ سمجھ لیا ہے؟اگر تم سارا مال مجھے دے دو گی تو مال میرا ہو جائے گا تمہارا نہیں رہے گا۔حضرت خدیجہ ؓ نے عرض کیا میں نے سوچ کر ہی یہ بات کی ہے اور میں نے سمجھ لیا ہے کہ آرام سے زندگی گذارنے کا بہترین ذریعہ یہی ہے۔آپ نے فرمایا پھر سوچ لو حضرت خدیجہؓ نے عرض کیا ہاں ہاں میں نے خوب سوچ لیا ہے۔آپ نے فرمایا اگر تم نے سوچ لیا ہے اور سارا مال اور سارے غلام مجھے دے دیئے ہیں تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے جیسا کوئی دوسرا انسان میرا غلام کہلائے۔میں سب سے پہلے غلا موں کو آزاد کر دوں گا۔حضرت خدیجہ ؓ نے عرض کیا اب یہ آپ کا مال ہے جس طرح آپ چاہیں کریں۔آپ یہ سن کر بے انتہا خوش ہوئے۔آپ باہر نکلے خانہ کعبہ میں آئے اور آپ نے اعلان فرمایا کہ خدیجہ ؓ نے اپنا سارا مال اور اپنے سارے غلام مجھے دے دیئے ہیں میں ان سب غلاموں کو آزاد کرتا ہوں۔آج کل اگر کسی کو مال مل جائے تو وہ کہے گا چلو موٹر خرید لیں،کوٹھی بنا لیں،یوروپ کی سیر کریں۔لیکن آپ کے اندر جو خواہش پید اہوئی وہ یہ تھی کہ جو میری طرح خدا تعالیٰ کے بندے ہیں اور عقل اور دماغ رکھتے ہیں وہ غلام ہو کر کیوں رہیں۔عرب کے لحاظ سے ہی نہیں ساری دنیا کے لحاظ سے یہ ایک عجیب بات تھی مگر اس عجیب بات کا آپ نے اعلان فرمایا اور اس طرح آپ نے مال ملنے پر غیر معمولی سخاء کا ثبوت دیا۔(۵) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ اعلان فرمایا کہ میں تما م غلاموں کو آزا د کرتا ہوں تو اس پر اور تو سب غلام چلے گئے۔صرف زید بن حارثہ ؓ جو بعد میں آپ کے بیٹے مشہور ہو گئے تھے وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا۔آپ نے تو مجھے آزاد کر دیا ہے مگر میں آزاد نہیں ہو نا چاہتا میں آپ کے پاس ہی رہوں گا۔آپ نے اصرار کیا کہ وطن جاؤ اور اپنے رشتہ داروں سے ملو اب تم آزاد ہو۔مگر حضرت زید ؓ نے عرض کیا جو محبت اور اخلاص میں