تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 136

تھیں، فرمانبردار اور وفا شعار بھی تھیں اور پھر وہ حضرت ابو بکر ؓ کی بیٹی تھیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حضرت عائشہ ؓ سے محبت تھی لیکن حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں آپ کی ان باتوں سے عموماً چڑ جاتی تھی اور کہا کرتی تھی یا رسول اللہ آپ کو خدیجہؓ سے کئی اچھی بیویاں ملیں پھر آپ اس کو کیوں یاد کرتے ہیں مگر آپ ہمیشہ فرماتے عائشہ تمہیں معلوم نہیںخدیجہؓ نے کس وفاداری کے ساتھ میرے ساتھ معاملہ کیا۔تمہیں یہ باتیں بے شک بری لگتی ہیں لیکن میں مجبور ہوں کہ اس کا ذکر کروں یہ اس وقت کا حال ہے جب آپ نے نوجوان عورتوں سے شادیاں کی ہوئی تھیں۔ایک دفعہ آپ بیٹھے ہوئے تھے حضرت عائشہ ؓ آپ کے پاس تھیں جو حضرت ابو بکر ؓ کی بیٹی تھیں خوبصورت اور نو جوان تھیں اور آپ کی مخلص خادمہ تھیں کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور آواز دی۔کیا میں اندر آجاؤں یہ آنے والی حضرت خدیجہ ؓ کی چھوٹی بہن تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ یک دم متغیر ہو گیا۔آپ بے قرار ہو کر اٹھے اور آپ نے فرمایا الٰہی میری خدیجہ! بہن کی آواز حضرت خدیجہؓ کی آواز سے ملتی تھی۔آپ کو اس کی آواز سن کر حضرت خدیجہ یاد آگئیں اور آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا آئیں(بخاری کتاب مناقب الانصارباب تزویج النبی خدیجۃ و فضلھا)۔حالانکہ حضرت خدیجہؓ کی وفات پر اس وقت بارہ سال گذر چکے تھے یہ وہ وفاداری ہے جس کا نمونہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا۔اس وقت حسن کی یاد کا کوئی سوال ہی نہیں تھا کیونکہ وہ ۶۵ سال کی عمر میں فوت ہوئی تھیں اگر کوئی نو جوان بیوی مر جائے تو خاوند اس کو یاد کرتا ہے لیکن یہاں تو صورت ہی اور تھی بیوی فوت ہوئی اور ایسی عمر میں فوت ہوئی کہ اس میں کوئی جسمانی دلکشی باقی نہیں رہی تھی۔لیکن آپ کی محبت کا یہ حال ہے کہ بارہ سال بعد بھی آپ کے کان میں ایک آواز پڑتی ہے جو حضرت خدیجہ ؓ کی آواز سے ملتی جلتی ہے تو آپ کہہ اٹھتے ہیں۔الٰہی میری خدیجہ!اور آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا ہے۔پھر یک دم کوئی خیال آیا اور فرمایا۔تم فلاں تو نہیں ہو؟جواب ملا یا رسول اللہ میں ہوں خدیجہ کی بہن۔یہ آپ کی وفادار ی کا ثبوت ہے جو آپ کو حضرت خدیجہ ؓ سے تھی اور یہ ایک ایسی بے نظیر چیزہے جس کی عوام میں تو کیا انبیاء میں بھی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔اس کی مثال عیسائی دنیا کیا پیش کر سکتی ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے تو۳۳ سال کی عمر تک جو انجیل سے ثابت ہے شادی ہی نہیں کی۔ہاں آپ کے گرد جو ہر وقت عورتیں رہتی تھیں شبہ پڑتا ہے کہ وہ آپ کی بیویاں تھیں مگر یہ تو ایک مشتبہ بات ہے۔پھر ان سے بھی حضرت مسیح علیہ السلام کی وفاداری کا کوئی سلوک ثابت نہیں وفادار ی کا شاندار مظاہرہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور ایسا کیا کہ دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔