تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 132

تَدَّعُوْنَ (حٰمٓ السجدۃ:۳۱،۳۲) وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اللہ کو رب کہنے کی وجہ سے ان پر ظلم کیا جاتا ہے ان کو تکالیف دی جاتی ہیں،ان کو قسم قسم کی ایذائیں پہنچائی جاتی ہیں اور وہ انہیں بر داشت کر کے استقامت اور صبر کا اعلیٰ نمونہ دکھاتے ہیں۔ان پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے نازل ہو تے ہیں جو انہیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ آئندہ جو کچھ ہو نے والا ہے اس سے ڈرو نہیں اور پیچھے جو کچھ نقصان ہو چکا ہے اس پر غم نہ کرو اور اس جنت کے ملنے پر خوشی مناؤ جس کا اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ کیاہے۔یہاں سوال پیداہو تا تھا کہ وہ جنت کہاں ہو گی اس جہان میں یا اگلے جہان میں یا دونوں جہانوں میں؟ اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے کہ جنت صرف اگلے جہان میں نہیں ہو گی جیسا کہ غیر احمدیوں کا عقیدہ ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے فرشتے مومنوں سے یہ کہتے ہیں کہ تم کو جنت ملے گی اور ہم اس دنیا میں بھی تمہاری مدد کریں گے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہو ں گے اللہ تعالیٰ ہمیں دونوں جہانوں میں تمہاری تائید کا حکم دیا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ جنت کا لفظ اس دنیا کے لئے بھی بولا گیا ہے اور اگلے جہان کے لئے بھی۔یہ ہے وہ سلوک جو امت محمدیہ کے کامل افراد کے ساتھ ہو تا ہے اور ہو تا رہے گا صرف اگلے جہان میں نہیں بلکہ اس دنیا میں بھی ہو گا اور اگلے جہان میں بھی ہو گا۔ایک اور مقام پر اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ (الرحـمٰن:۴۷) وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی خشیت اپنے دلوں میں رکھتے ہیں ان کو دو جنتیں ملیں گی۔ایک اس جہان میں اور ایک اگلے جہان میں۔یہ محض ڈھکوسلہ ہے کہ جنت صرف اگلے جہان میں ملتی ہے۔خدا تعالیٰ صاف طور پر فرما تا ہے کہ مومن کواگلے جہان میں جنت ملے گی اور اس جہان میں بھی جنت ملے گی۔اگر جنت صرف اگلے جہان میں ہی ہو تو ہم کسی غیر مذہب والے کو کیا ثبوت دے سکتے ہیں۔وہ کہہ دے گا کہ میں تو اگلے جہان کو مانتا ہی نہیں۔جب تک ہم خدا تعالیٰ کا وہ سلوک اور تائید جو ہمیں اس دنیا میں حاصل ہے اسے نہ دکھائیں وہ اگلے جہان کے وعدوں پر اعتبار نہیں کر سکتا لیکن اگر ہم اسے اپنے ساتھ خدا تعالیٰ کا امتیازی سلوک اور اس کی وہ تائیدات جو ہمیں اس دنیا میں حاصل ہیں دکھا دیں تو پھر اسے ماننا پڑے گا کہ اگلے جہان میں بھی خدا تعالیٰ کا سلوک ہمارے ساتھ ایسا ہی ہو گا اور اس کی تائید ہمارے شامل حال ہو گی۔یہ ایک عظیم الشان وعدہ ہے جومومنوں سے کیا گیا ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ کمزور ہوں گے باوجود اس کے کہ دنیامیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی پھر بھی جو کچھ وہ چاہیں گے وہی ہو گا اور انہی کی بات دنیا میں پھیلے گی اور ان کے مخالف بالکل کمزور اور ذلیل ہو جائیں گے۔قرب الٰہی کے حصول کا یہ دعویٰ اور اس کی یہ نمایاں علامات جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہیں سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں نہیں پائی جاتیں۔جو ثبوت ہے اس بات کا کہ حقیقی تزکیہ