تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 9
دوسرے انبیاء کو بھی حاصل نہ ہوئی۔آپ کی وفات کے وقت ابو جہل اور عاص بن وائل وغیرہ کےمقابلہ میں ہی آپ کو نصرت الٰہی اور تائید غیبی نہیں ملی بلکہ جب آپ کا مشن کمال کو پہنچا تو ابوجہل اور عاص بن وائل وغیرہ تو کیا موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کی نسبت بھی آپ کو زیادہ نصرت الٰہی اور تائید غیبی مل چکی تھی۔ابتدا میں چند آدمی آپ پر ایمان لائے تھے اس وقت خدا تعالیٰ نے آپ سے کہا کہ میں تیری جماعت میں اتنی برکت دوں گا کہ انسانوں کے لحاظ سے دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی جماعت تیرا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔زمانہ ترقی کرتا گیا۔اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت اور عشق پیدا کیا۔ایک طرف آپ کا دائرہ وسیع ہو گیا اور دوسری طرف تمام ملک میں آپ کی تعلیم نے وہ اثر کیا کہ آپ کی وفات کے وقت دنیا نے دیکھا کہ نہ صرف یہ کہ ابوجہل اور عاص بن وائل کے ساتھیوں کےمقابلہ میں ہی آپ کو اچھے اتباع ملے بلکہ آپ کی وفات کے وقت دنیا نے یہ مان لیا کہ جو اتباع آپ کو ملے ہیں ان کے مقابلہ میں موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کےساتھی بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں لَوْکَانَ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی حَیَّیْنِ لَمَا وَسِعَھُمَااِلَّا اتِّبَاعِیْ (الیواقیت والجواہر الجزء الثانی صفحہ ۳۴۲) اگر حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام بھی زندہ ہو تے تو ان کو میرے صحابہ ؓ میں شامل ہوئے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تا۔گویا حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام بھی آپ کے زمانہ میں زندہ موجود ہوتے تو وہ بھی آپ کے فرمانبردار اور مطیع ہو تے دیکھو کتنا بڑا کوثر ہے جو آپ کو عطا کیا گیا۔اگر آپ کی ابتدائی حالت کو دیکھاجائے، اللہ تعالیٰ کا آپ کے ساتھ جو ابتدائی سلوک تھااسے دیکھا جائے،آپ کے اخلاق کے مظاہروں کو دیکھا جائے اور پھر آپ کے آخری انجام کو دیکھا جائے تو دل ایمان سے لبریز ہو جاتا ہے۔سورۂ کوثر کا سورۂ ماعون سے دوسرا تعلق دوسرا تعلق سورۂ کوثر کا سورۂ ماعون سے یہ ہے کہ سورۂ ماعون میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص تکذیب دین کرتا ہے اس میں چار نقص پیدا ہو جاتے ہیں (ا) بخل جیسے فرمایا فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ۔وَ لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ۔یعنی وہ یتیم کو دھتکارتا ہے اور مسکین کوکھانا کھلانے کی دوسروں کو ترغیب نہیں دیتا (۲)ترک صلوٰۃ گویا ایک طرف بخل پیدا ہو جاتا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی محبت کم ہو جاتی ہے (۳)کمزوریٔ ایمان پیدا ہوجاتی ہے جس کے نتیجہ میں انسان کے اندر شرک کا مادہ پیدا ہوجاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی توجہ ہٹ جاتی ہے اوّل تو لوگ نماز پڑھتے ہی نہیں اور اگر پڑھتے ہیں تو پوری توجہ سے نہیں پڑھتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ انسان ہی خدا ہیں وہ اس لئے نمازیں پڑھتے ہیں تا انسان یہ کہیں کہ فلاں بڑا نمازی ہے۔لوگ اسے برا بھلا نہ کہیں۔گویا ایک طرف وہ اللہ تعالیٰ کی عبودیت سے انکار کرتے ہیں تو