تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 8

نسبت بھی زیادہ غالب رہوں گا۔اگر آپ فرماتے کہ میں غالب آجاؤں گا تو اس کے صرف یہ معنے تھے کہ میں اپنے دشمنوں پر غالب آجاؤں گا۔ایسا ہی جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام غالب آئے۔جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام غالب آئے۔جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام غالب آئے یا دوسرے تمام انبیا ء غالب آئے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں اس سے بڑھ کر دعویٰ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے دشمنوں پر ہی غالب نہیں کرے گا بلکہ آپ کو وہ غلبہ ملے گا جس کی نظیر نہیںملتی۔وہ صرف غلبہ نہیں کہلائے گا وہ کوثر کہلائے گا۔آپ کو ایک کتاب ہی نہ ملے گی بلکہ ایسی کتاب ملے گی جو غیر محدود مطالب پر حاوی ہو گی۔آپ کے اخلاق دوسرے انبیاء سے بھی اعلیٰ اور بلند پایہ ہوں گے۔خدا تعالیٰ کا معاملہ آپ سے غیر محدود ہو گا اور یہ وہ چیز نہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام میں پائی جاتی تھی۔یہ وہ چیز نہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام میں پائی جاتی تھی۔یہ وہ چیز نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا دوسرے انبیاء میں پائی جاتی تھی۔یہ فرق اس لئے تھا کہ آپ کا دعویٰ صر ف نبی ہو نے کا نہیں تھا بلکہ آپ کا دعویٰ خاتم النبییّن ہو نے کا تھا۔یہ دعویٰ آپ نے اس وقت کیا جب آپ کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔آپ کی ذات کو بھی کوئی نہیں جانتا تھا۔آپ کی حیثیت ایک معمولی انسان کی تھی۔اس وقت خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ کا انجام صرف نبیوں والا نہیں ہو گا بلکہ نبیوں کے سرداروں والا ہوگا۔دیکھو یہ کتنا بڑا دعویٰ ہے اور کتنا بڑا چیلنج ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف دشمن کے مقابلہ میں جیتنے کا سوال نہیں۔آپ اس طرح جیتیں گے کہ پہلے انبیاء کی کامیابی کی آپ کے مقابل پر کوئی نسبت نہیں ہوگی۔کتنا کھلا چیلنج ہے جوں جوں زمانہ گذرتا گیا اور جوں جوں حالات بدلتے گئے سورۂ کوثر کا ایک ایک مفہوم پورا ہونے لگا۔وہ کتا ب جو پہلے چندسورتوں کی نظر آتی تھی جس میں چند علمی اور اخلاقی مضامین بیان کئے گئے تھے اب اس کے اندر تمام دنیا کے علوم آنے لگے اور جب وہ کتاب خاتمہ کو پہنچی تو اس کے مقابلہ میں دوسرے انبیاء کی تمام کتابیں ہیچ رہ گئیں۔جب قرآن کریم کا نزول ختم ہوا تو اس نے صرف مکہ والوں کی باتوں کو ہی جھوٹا ثابت نہیں کیا اس نے شعرائے عرب کے کلام کو ہی ہیچ ثابت نہیں کیا بلکہ جب قرآن کریم کانزول ختم ہوا توکیا زبور، کیا تورات، کیا انجیل، کیا وید اور کیا ژند و اوستا سب کتابیں اس کے مقابلہ میں ہیچ رہ گئیں۔یاجب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عمر کے آخرکو پہنچےتو اپنے اخلاق کی بلندی اور روحانیت کی شان کے ساتھ ابو جہل اور عاص بن وائل کوہی آپ نے شرمندہ نہیں کیا اور ان پر ہی اپنی برتری کو ثابت نہیں کیا بلکہ آپ کی زندگی کے حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ جو کوثر آپ کو ملا وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کو بھی نہ مل سکا۔آپ کو خدا تعالیٰ کی جو نصرت اور تائید حاصل ہوئی وہ