تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 125

آج تک کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں گذری جس نے تکالیف برداشت کئے بغیر کامیابی حاصل کی ہو۔سب سے بڑے تو اللہ تعالیٰ کے نبی ہوتے ہیں مگر انہیں بھی قربانیاں کرنی پڑیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا ہے۔مہدی ہو یا عیسیٰ آپ کا غلام ہی ہو گا۔مگر جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانیاں کرنی پڑیں تو اس کو کیوں نہ کرنی پڑیں گی۔پس فکر کی خرابی کا عقائد کی درستی اور صحت پر بھی اثر پڑتا ہے اسی لئے اسلام نے فکر کی درستی پر خاص طور پر زور دیاہے۔پھر حیات مسیح کے عقیدہ میں ہی نہیں بلکہ کئی اور عقائد میں بھی مسلمانوں کے فکر کی خرابی کا دخل ہے۔مثلاً وہ کہتے ہیں کہ جب مسیح آئے گا تو تلوار کے زور سے تمام کفار کو مسلمان بنائے گا اور جو نہیں مانیں گے انہیں موت کے گھاٹ اتار دے گا۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جبر کے نتیجہ میں دوسرا شخص زبان سے تو سچائی کا اقرار کر لے گا مگر اس کے دماغ پر کیسے اثر پڑے گا اور اگر وہ دل سے اقرار نہیں کرے گا تو اس کے ایمان لانے کا فائدہ کیا ہوا وہ تو منافق بن جائے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے رسول تیرے پاس منافق آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی یہی گواہی دیتا ہے کہ تُو اللہ تعالیٰ کا رسول ہے مگر منافق جھوٹے ہیں۔اگر جبری طور پر کسی کو منوا لینا درست ہو تا تو پھر منافق کہہ تو رہے تھے کہ تُو سچا نبی ہے۔آپ کو تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ یہ بھی اب کہنے لگے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں مگر باوجود اس کے کہ انہوں نے تسلیم کر لیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کا صرف منہ سے گواہی دے دینا کافی نہیں۔ان کے دل اقرار نہیں کرتے اس لئے وہ جھوٹے ہیں۔اگر لٹھ سے تم کسی کو منوا لو گے تو وہ ایمان تو لے آئے گا لیکن اس کے دماغ پر کوئی اثر نہیں ہو گا اور اس کا ایمان کسی کام کا نہیں ہو گا۔مثلاً تم کہتے ہو خدا تعالیٰ ایک ہے اور وہ تین خدا مانتا ہے۔اگر تم اسے لٹھ سے ایک خدا منواؤ گے تو وہ منہ سے تو کہہ دے گا کہ خدا ایک ہے مگر وہ دل سے یہی کہے گا کہ خدا تین ہیں۔گویا جبر سے اس کے اندر ایمان پیدا کرنے کی بجائے ہم منافقت پیدا کر دیں گے اور یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہو گی۔جب تک وہ اپنے عقائد پر قائم تھا اور اس کا ظاہر و باطن ایک تھا خواہ اس کا عقیدہ غلط ہی کیوں نہ تھا اس بات کا امکان تھا کہ اسے سمجھا کرسیدھے راستہ پر لایا جائے۔لیکن اگر ہم جبر کر کے اسے منواتے ہیں تو گویا ہم اسے کہتے ہیں کہ تم منہ سے کچھ کہو اور دل میں کچھ رکھو اس طرح منافقت میں ہم اسے پکا کر دیتے ہیں۔جب تک وہ سچ بولتا ہے اس بات کا امکان ہے کہ اگر ہم دلیل دیں گے تو وہ مان جائے گا مگر ہم نے اسے منافقت کی عادت ڈال کر بے ایمانی میں اور بھی پختہ کردیا۔پس فکر کی درستی نہایت ضروری چیز ہے اور یہ اسلام نے ہی کی ہے کسی اور مذہب نے ایسی تعلیم نہیں دی جو فکر