تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 124

میں جو آوازیں پڑتی ہیں وہ اس پر نہایت گہرا اثر کرتی ہیں۔فرانس میں ایک عورت تھی وہ بعض اوقات ایسی اعلیٰ درجہ کی جرمن زبان بولتی تھی کہ سننے والے حیران رہ جاتے تھے حالانکہ وہ جرمن با لکل نہیں جانتی تھی۔بعضوں نے کہناشروع کیا کہ اس پر جن سوار ہیں جو جرمن زبان میں بولنا شروع کر دیتے ہیں۔جب اس کا چرچا ہو اتو علم النفس کا ایک ماہر وہاں گیا اور اس نے دیکھا کہ وہ عورت واقعہ میں بعض دفعہ جرمن زبان میں تقریر کرنے لگتی ہے۔اس نے عورت سے مختلف سوالات کئے اور پو چھا کہ آیا اس کی والدہ کہیں کسی جرمن کے پاس نوکر تو نہیں تھی؟آخر اسے معلوم ہو اکہ اس کی والدہ ایک پادری کے ہاں ملاز م تھی جو جرمن تھا۔اس وقت اس لڑکی کی عمر ڈیڑھ سال کی تھی۔وہ اس پادری کو ملنے کے لئے گیا تومعلوم ہو اکہ وہ ریٹائر ہو کر وطن چلا گیا ہے۔وہ اس کے وطن گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مرگیا ہے آخر وہ اس کے بیٹے کے پاس پہنچا اور اس نے دریافت کیا کہ کیا اس کے پاس اپنے باپ کی کوئی تقرریں موجود ہیںبیٹے نے گھر سے کچھ سرمن نکال کر دیئے جو جرمن زبان میں تھے۔اور اس نے ان سرمنوں کا مطالعہ شروع کیا تو اسے معلوم ہوا کہ جو تقریروہ عورت کرتی ہے وہ لفظ بلفظ ان سرمنوں کی نقل ہے۔پھر اسے معلوم ہوا کہ جب وہ جرمن پادری یہ تقریریں کیا کرتا تھا تو یہ لڑکی اپنی ماں کی گود میں ہوا کرتی تھی اور اگر چہ اس کی عمر اس وقت ڈیڑھ سال کی تھی مگر پھر بھی وہ تقریریں اس کے دل و دماغ پر نقش ہوتی چلی گئیں۔غرض اس زمانہ میں علم النفس نے بتایا ہے کہ انسان کے دماغ میں ایسے پر دے ہیں جن پر ہر آواز منعکس ہو جاتی ہے خواہ عمرکے لحاظ سے وہ ایک دن کا ہی کیوں نہ ہو۔مگر اسلام نے آ ج سے تیرہ سو سال پہلے جبکہ دنیا موجودہ علوم سے با لکل نا آشنا تھی اس کی طرف توجہ دلائی اور پہلے دن بچہ کے کان میں اذان دینے کا حکم دے کر بتایا کہ بچہ کی تربیت اس کی پیدائش کے وقت سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔تمہارا فرض ہے کہ تم اس کے کان میں ہمیشہ نیک باتیں ڈالو۔اگر پہلے دن اس کے کان میں اذان کی آواز پڑتی ہے تو دوسرے دن اس کے کان میں جو آواز پڑے وہ پہلے دن کی آواز سے اچھی ہو اور تیسرے دن جو آواز پڑے وہ دوسرے دن کی آواز سے اچھی ہو۔گویا اسلامی نقطہ نگاہ سے فکرکی پاکیزگی ایسی ہی چیز ہے کہ پہلے دن سے ہی بچے کے کان میں نیک باتیں ڈالنا خواہ ان کو سمجھنے کی اہلیت اس میں بعد میں پیدا ہو ہر مومن کا فرض ہے تاکہ بڑے ہو کر بھی اسے فکر صحیح کی عادت پڑے۔حقیقت یہ ہے کہ غلط فکر انسان کے عقائد کو بھی خراب کر دیتا ہے۔مثلاً اس زمانہ میں بد قسمتی سے مسلمانوں میں یہ عقیدہ پایا جاتاہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور وہ دوبارہ اس دنیا میں آئیں گے اور دوسرے لوگوں کا مال لوٹ کر انہیں دے دیں گے۔اس عقیدہ کی وجہ سے تمام قوم میں خطرناک سستی اور غفلت پیدا ہو گئی ہے۔اگر ان کا فکر درست ہو تا تو وہ سمجھتے کہ بغیر قربانی کے دنیا پر فتح حاصل نہیں ہو سکتی اور