تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 123
نہیں اٹھاتا۔لیکن بعض حریص ایسے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہو اہو تا ہے مگر پھر بھی دوسروں کو دیکھ کر ان کا جی للچانا شروع کر دیتا ہے۔بہر حال عام قانون یہی ہے کہ شادی انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرتی ہے۔یہی حکمت ہے جس کی بنا پر اسلام نے رہبانیت سے منع کیاہے۔مگر عیسائیت غیر شادی شدہ ہونا افضل قرار دیتی ہے۔عیسائیت کہتی ہے تو اپنے جذبات کو کچل دے اور اسلام کہتا ہے تو اپنے جذبات کا صحیح استعمال کر۔کیونکہ اس کے بغیر تزکیہ پیدا نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ورثہ کے احکام ہیں۔ورثہ کے متعلق دوسرے مذاہب کی یہ تعلیم ہے کہ جائیداد کا باپ مالک ہے وہ جسے چاہے اپنی جائیداد دےدے۔مگر اسلام کہتا ہے ورثہ میں سب کا حق ہے۔یہ درست نہیں کہ تم سب مال اور جائیداد ایک کو ہی دے دو۔اسی وجہ سے اسلام نے ہر ایک کے الگ الگ حصے مقرر کئے ہیں جو ہر ایک کو ملنے ضروری ہیں جو ان حصوں کو بلا وجہ(یعنی بلا دینی وجہ)کے توڑے وہ گناہ گار ہو تا ہے۔اس کے بر خلاف عیسائی ممالک میں عام طور پر جائیداد کا صرف بڑا لڑکا وارث ہو تا ہے۔مگر اس صورت میں دوسرے لڑکے کیا سمجھتے ہیں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارا باپ بڑا نالائق تھا جس نے ہمیں اپنی جائیداد سے محروم کر دیا بلکہ یوروپ میں تو ممکن ہے کہ لوگ سمجھ لیں کہ اس میں ان کے باپ کاکوئی قصور نہیں حکومت نے خود ایسا قانون بنا رکھا ہے۔مگر یہاں تو اس قسم کا کوئی عذر بھی نہیں ہو سکتا۔بہرحال اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ سب اولاد کو اپنی جائیداد سے حصہ دو اور کسی کو اس کے جائز حق سے محروم نہ کرو۔اس طرح اسلام نے نہ صرف اولاد کے حقوق کو محفوظ کر دیا بلکہ ان کے جذبات کا بھی تزکیہ کیاہے جس بچے کو ورثہ نہیں ملے گا وہ تو ماں باپ کو ساری عمر گالیاں ہی دیتا رہے گا۔اس کے دل سے دعا کیسے نکلے گی۔غرض اسلام نے بنی نوع انسان کو جو تعلیم دی ہے وہی تعلیم جذبات کا تزکیہ کرتی اور دل میں صحیح نیکی پیدا کرتی ہے۔فکر کا تزکیہ تیسری چیز فکر کا تزکیہ ہے۔فکر بھی ایک بڑی طاقت ہے جذبات وہ چیز ہیں جو انسان کے اندر وقتی طور پر ایک جوش پیدا کر دیتے ہیں۔مثلاً بھوک،پیاس اور شہوت وغیرہ اور فکر میں ہم پچھلے علوم کو لے کر ان پر غور کرتے اور ان سے نتائج اخذ کرتے ہیں۔جذبات کا تعلق دل کے ساتھ ہے اور فکر کا دماغ کے ساتھ۔اسلام نے جو تعلیم دی ہے اس کے ذریعہ وہ انسانی فکر کو بھی ساتھ ہی درست کر دیتا ہے اور اس کے لئے اس نے کئی طریق تجویز کئے ہیں سب سے پہلے اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ جب بچہ پیدا ہو اسی وقت اس کے کانوںمیں اذان اور اقامت کہی جائے۔اب بظاہر یہ عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک بچہ جو بولتا نہیں جو دوسرے کی زبان کو سمجھ نہیں سکتا اس کے کان میں اذان کہی جارہی ہے۔لیکن علم النفس کے ماتحت موجودہ زمانہ میں یہ حقیقت روشن ہو گئی ہے کہ بچہ کے کان