تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 122

ہے کہ خدا تعالیٰ نے خود انسان کے اندر شہوت پیدا کی ہے۔اگر کوئی مذہب یہ کہتا ہے کہ تم اپنی نسل نہ چلاؤ اور جو چیز خدا تعالیٰ نے خود پیدا کی ہے اس کا استعمال نہ کرو تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر خدا تعالیٰ نے شہوت کا مادہ انسان کے اندر کیوں پیدا کیا جس طرح کھانے کی بھوک ہوتی ہے اسی طرح عورت اور مرد کے تعلقات کی بھی بھوک ہوتی ہے۔جب بغیر کھانے کے انسان زندہ نہیں رہ سکتا تو میاں بیوی کے تعلقات کے بغیراخلاق میں درستی کیسے پید اہو سکتی ہے۔حماقت سے دوسرے مذاہب نے یہ سمجھ لیا ہے کہ عورت اور مرد کا تعلق برا ہے۔مگر جن قوموں نے یہ قانون جاری کیا انہی ڈاکٹروں نے یہ ثابت کیا ہے کہ قوت رجولیت اور دماغی طاقت کا آپس میں نہایت گہرا تعلق ہے جب کسی شخص کا دماغ پریشان رہنے لگتا ہے،خیالات پراگندہ ہو جاتے ہیں تو ڈاکٹر کہتے ہیں پرنڈرین کے ٹیکے کرواؤ۔پرنڈرین کیاہے یہ اسی مادہ کا کیمیاوی ٹیکہ ہے جس پر قوت رجولیت کا انحصار ہے۔ڈاکٹر کہتے ہیں کہ جب کسی انسان کی رجولیت کمزور ہو جائے تو اس کا دماغ بھی کمزور ہو جاتا ہے۔یہ گویا تصدیق ہے اسلام کی، یہ ثبوت ہے اسلام کی سچائی کا۔عیسائیت کہتی ہے جذبات کو مار دینا چاہیے۔رجولیت کو اس نے گناہ قرار دیا ہے اور کہا ہے شادی نہ کرو تمہارا درجہ بڑھے گا۔مگر اسلام کہتا ہے جذبات کو مارنا اور شادی نہ کرنا گناہ ہے۔شادی کرو،بچے پیدا کرو اور اپنی نسل کو بڑھاؤ۔عیسائیت کہتی ہے ایک عورت اگر شادی نہ کرے تو یہ اس کی نیکی ہے(۱۔کرنتھیوں باب ۷ آیت ۲۶تا۲۹) مگر اسلام کہتا ہے عورت اگر شادی نہ کرے تو یہ بدی ہے۔بلکہ اسلام نے تو یہاں تک کہا ہے کہ عورت اگر شادی نہ کرے تو اسے مجبور کرو کہ وہ شادی کرے۔مرد کے متعلق بھی اسلام یہی حکم دیتا ہے کہ وہ ضرور شادی کرے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تَزَوَّجُوْا وَلُوْدًا وَّدُوْدًا(نسائی کتاب النکاح باب کراھیۃ تزویـج العقیم ) ایسی عورت سے شادی کرو جو خوب بچے پیدا کرنے والی ہو اور خوب محبت کرنے والی ہو۔گویا عیسائیت نے فطرت کو مارا ہے اور اسلام نے فطرت کو ابھارا ہے۔اب خود ہی فیصلہ کر لو کہ تزکیہ کون کرتا ہے۔جو شخص شادی نہیں کرتا وہ جہاں بھی عورت کو دیکھے گا چونکہ اس کے اندر عورت کی بھوک ہو گی اس کا تزکیہ مٹ جائے گا لیکن اگر وہ شادی شدہ ہو گا تو وہ کسی غیرعورت پر نگاہِ بد نہیں ڈالے گا۔کیونکہ اس کے لئے بھوک کا سوال ہی نہیں۔جیسے اگر کوئی شخص بھو کاہے تو وہ جب بھی دوسروں کو کھانا کھاتے دیکھے گا تو اس کا دل للچائے گا۔مگر جب اس کا اپنا پیٹ بھرا ہوا ہوگا تو دوسروں کو کھانا کھاتے دیکھ کر اس کے اندر خواہش بھی پیدا نہیں ہو گی۔اس طرح شادی شدہ آدمی کی بھوک مٹ جاتی ہے اور وہ غیر عورت کو دیکھ کر اس کی خواہش نہیں کرتا۔یہ الگ بات ہے کہ کوئی بہت زیادہ حریص ہوتو وہ شادی شدہ ہو نے کے باوجود غیر عورتوں کو بھی بری نگاہ سے دیکھتا رہے جیسے عام طور پر جب پیٹ بھر اہو اہو تو انسان دوسروں کے کھانے کی طرف نگاہ