تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 116
ابراہیمی میں کی گئی تھی وہ تزکیۂ نفوس کا کام تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس دعا کے جوا ب میں فرمایا تھا کہ ہم نے ایسا رسول تم میں مبعوث کر دیا ہے جو تمہارے دلوں کو پاک کرتا اور انہیں محبت الٰہی کی آگ سے روشن رکھتا ہے۔اب اس جگہ پر فرماتا ہے کہ اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ۔وہ تزکیۂ قوم کی دعا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی صرف اسے ہی ہم نے قبول نہیں کیا بلکہ اس قوت میں ہم نے اپنے رسول کو کوثر عطا فرمایا ہے۔تزکیہ کی تین اقسام تزکیہ تین قسم کا ہو اکرتا ہے(۱) عمل کا(۲)جذبات کا(۳) فکر کا۔یعنی جہاں تک نفس انسانی کی پاکیزگی کا سوال ہے اسے تین قسم کی پاکیزگی کی ضرورت ہوتی ہے۔اوّل جذبات کی پاکیزگی۔کیونکہ سب سے پہلے جذبات ہی رونما ہوتے ہیں۔بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس وقت جذبات کی وجہ سے ہی وہ تمام کام کرتا ہے۔عمل اور فکر کا زمانہ ابھی دور ہوتا ہے۔بھوک لگتی ہے تو چیخیں مارتا ہے۔ماں کی جدائی پر روتا ہے اور یہ تمام کام اس کے جذبات پر مبنی ہوتے ہیں۔جب وہ چلنا پھرنا شرع کر دیتا ہے تو پھر کچھ عمل شروع ہو تا ہے اور جب وہ بلوغت کے زمانہ تک پہنچتا ہے تو پھر وہ تدبر کرتا، سوچتا اور کچھ نتائج اخذ کرتا ہے اور جب یہ تینوں چیزیں مکمل ہو جاتی ہیں تو اس کا جسم بھی اپنی تکمیل حاصل کرلیتا ہے۔اوپر جو امور بیان ہو چکے ہیں ان سے معلوم ہو سکتا ہے کہ تزکیہ اسلام کی اتباع کا لازمی نتیجہ ہے اور حقیقی تزکیہ صرف اسلام ہی پیدا کر سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی مذہب کی تعلیم درست ہے اور لوگ اس پر عمل کرتے ہیں تو وہ ضرور ان کا تزکیہ کرے گا۔لیکن اگر مذہب کی تعلیم ہی درست نہ ہو تو پھر اس پر عمل کر کے انسان ضرور ٹھوکر کھائےگا۔مثلاً اسلام نے کہا ہے کہ اگر تم عفو میں فائدہ دیکھو تو معاف کر دو اور اگر سزا میں فائدہ دیکھو تو سزا دو۔اب جو شخص اس پر عمل نہیں کرتا وہ نہ کرے لیکن جو اس پر عمل کرے گا وہ یقیناً بہترین عمل والا انسان ہو گا لیکن یہودیت کہتی ہے کہ ہر ایک کو سزا دو۔ناک کے بدلے ناک،کان کے بدلے کان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اب جو شخص اس تعلیم پر عمل نہیں کرتا وہ نہ کرے۔لیکن جو شخص اس تعلیم پر عمل کرے گا وہ ضرور غلطی میں مبتلا ہو گا اور ہزاروں دفعہ وہ ظلم اور تعدی سے کام لے گا۔یا مثلاً انجیل کہتی ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دو۔اگر تم سے کوئی کرتہ مانگے تو تم اسے اپنی چادر بھی اتار دو اور اگر تمہیں کوئی ایک میل بیگار لے جانا چاہے تو تم اس کے ساتھ دو میل تک چلے جاؤ۔اس تعلیم پر اگر کوئی شخص عمل نہیں کرتا تو وہ نہ کرے لیکن عمل کرنے والا کئی دفعہ گناہ میں مبتلا ہو جائے گا مثلاً ڈاکو آئیں اور گھر کا مالک اپنا سامان نکال نکال کر ان کے سامنے رکھ دے اور کہے کہ آپ نے غلطی سے یہ سامان تو دیکھا نہیں میں یہ سامان بھی آپ کو دیتا ہوں۔تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ملک کا امن