تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 111

میں تو اس کی وجہ نہیں آئی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام حکیم رکھا ہے جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میں کوئی بھی ایسا کام نہیں کرتا جس کی کوئی غرض نہ ہو۔مَا لَکُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰہِ وَقَارًا میں اسی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو اگر تم سمجھ دار ہو تو تم کوشش کرتے ہو کہ تمہارا ہر کام معقول ہو اور کسی حکمت کے ماتحت ہو۔لیکن اللہ تعالیٰ کے متعلق تم یہ خیال کرتے ہو کہ وہ اندھا دھند کام کرتا چلا جاتا ہے۔تم کہتے ہو کہ اس نے ایک بیٹا بنا لیا ہے۔آخر غور کرو کہ اسے بیٹا بنانے کی ضرورت کیا تھی۔بیٹے کی خواہش تو انسان کے دل میں اس لئے ہوتی ہے کہ اگر وہ مر جائے تو اس کی یاد کو قائم رکھنے والا کوئی وجود اس دنیا میں ہو۔کیا نعوذباللہ خدا تعالیٰ نے مر جانا تھا کہ اس نے بیٹا بنا لیا۔پھر دوسری وجہ اس خواہش کی یہ ہوتی ہے کہ انسان کو جتھے کی ضرورت ہوتی ہے وہ خیال کرتا ہے کہ آٹھ نو بیٹے ہوں گے تو میری مدد کریں گے کیا نعوذباللہ اللہ تعالیٰ کمزور تھا اور اسے دشمنوں سے خطرہ تھا یا اپنا کام اکیلے چلانا اس کے لئے مشکل تھا کہ اس نے بیٹا بنا لیا۔آخر غور کرو اور سوچو کہ تم تو اپنے کام کے لئے حکمتیں تلاش کرتے ہو مگر خدا تعالیٰ کے متعلق تم سمجھتے ہو کہ وہ اندھا دھند اور بلاوجہ کام کرتا ہے۔کیا یہ معقول بات ہے؟ فلسفۂ گناہ کا بیان اب میں چند موٹی موٹی مثالیں دیتا ہوں جن سے یہ ظاہر ہو گا کہ قرآن کریم نے کس طرح اپنے تمام احکام کی بنیادفلسفہ پر رکھی ہے۔اسلام نے بنی نوع انسان کو مختلف قسم کی بدیوں سے روکا ہے اور قرآن کریم اور احادیث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ گناہ کیوں پیدا ہوتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ہونی چاہیے۔قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس نے یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ بدی کے کچھ دروازے ہوتے ہیں پہلے ان دروازوں کو بند کرو پھر تم اس بدی پر غالب آسکو گے۔مسیح ناصری ؑکہتے ہیں کہ کسی عورت کی طرف بد نیتی سے نگاہ مت ڈال۔سوال یہ ہے کہ بد نیتی تو اسی لئے پیدا ہوتی ہے کہ انسان کسی ایسی عورت کی طرف دیکھتا ہے جو خوبصورت ہوتی ہے۔دیکھنے سے پہلے تو بد نیتی پیدا نہیں ہوسکتی اگر دیکھنے سے پہلے بد نیتی پیدا نہیں ہو تی تو پھر اس کے کیا معنے ہوئے کہ تُو کسی غیر محرم کو بد نظری سے نہ دیکھ اور اگر اس کے کوئی معنے نہیں تو پھر یہ حکم بے فائدہ ہوا۔مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ تم کسی غیر محرم عورت کی طرف مت دیکھو۔نہ نیک نیتی سے نہ بری نظر سے۔تمہیں کیا پتہ کہ وہ تمہارے لئے کشش رکھتی ہے یا نہیں۔اگر وہ تمہارے لئے کشش رکھتی ہے تو پھر ناجائز محبت پیدا ہو گی۔اس لئے تم اس کا دروازہ ہی بند کردو تاکہ تمہارا دل ہر قسم کی آلودگی سے محفوظ رہے۔اسی طرح اسلام صرف یہ نہیں کہتا کہ بدکاری نہ کر بلکہ وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ غیر محرم عورت اور مرد ایک جگہ اکٹھے نہ ہوں۔دوسرے مذاہب کہتے ہیں اکٹھے بے شک ہوجاؤ مگر بدکاری نہ کرو۔حالانکہ جب بدی کے سامان موجود ہوں اس وقت بدی سے بچنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔اسی