تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 107
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ واضح ہدایات تھیں کہ رات کو اور بے اطلاع حملہ نہیں کرنا، عورتوں کو قتل نہیں کرنا، بچوں کو قتل نہیں کرنا، بوڑھوں کو قتل نہیں کرنا، پادریوں اور دنیا چھوڑ کر عبادت کرنے والے لوگوں کو قتل نہیں کرنا جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں ان کو قتل نہیں کرنا صرف جنگ میں شامل ہونے والوں سے لڑائی کی جائے۔پھر اسلام نے یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ اعلان جنگ کے بغیر کسی قوم سے لڑائی کرنا جائز نہیں۔اب تو انٹرنیشنل لاء بھی اس کا مطالبہ کرتا ہے کہ اعلانِ جنگ ضرور ہونا چاہیے مگر سب سے پہلے یہ اصول اسلام نے ہی مقرر کیا ہے کہ جب تمہارے ہمسایہ میں کوئی قوم رہتی ہو اور اس سے تمہارے معاہدات ہوں تو فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ (الانفال:۵۹) پہلے اعلان کردو اور اس قوم کو اطلاع دو کہ اب پیش آمدہ حالات کی وجہ سے ہماری تمہارے ساتھ صلح نہیں رہ سکتی۔تاکہ اسے موقع مل جائے کہ وہ اس کا ازالہ کر سکے اور اگر وہ ازالہ نہ کرے تو پھر اس کے ساتھ لڑائی کرو۔پھر یہ بھی اسلامی قانون ہے کہ جب دشمن ہتھیار پھینک دے تو تم بھی لڑائی بند کردو۔قرآن کریم میں آتا ہے اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا (الانفال:۶۲) کہ جب کوئی قوم تم سے صلح کرنا چاہے تو تم انکار مت کرو۔اعلانِ صلح کے بعد اس سے جنگ کرنا جائز نہیں۔اسی طرح غیر حکومتوں کے ساتھ جو تعلقات ہوتے ہیں ان کے متعلق بھی اسلام نے ایسے قوانین مقرر کئے ہیں جن کا کوئی مذہب مقابلہ نہیں کر سکتا۔مثلاً اسلام نے حکومتوں کے آپس کے اختلافات کو دور کرنے کے لئے بعض اہم اصول تجویز کئے ہیں۔جو اتنے مکمل ہیں کہ ان کا مقابلہ نہ پہلی لیگ آف نیشنز کر سکتی تھی اور نہ اب جو یونائیٹڈ نیشنز کی انجمن بنی ہے یہ اس کا مقابلہ کر سکتی ہے کیونکہ قرآن کریم کے مقرر کردہ اصولوں کو نہ پوری طرح اس پہلی انجمن نے اخذ کیا اور نہ موجودہ انجمن ان کو اختیار کر رہی ہے (اس کا تفصیلی ذکر میں نے اپنی کتاب ’’احمدیت‘‘میں کیا ہے)قرآن مجید میں آتا ہے اِنْ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ (الحجرات:۱۰) یعنی جب دو قومیں آپس میں لڑ پڑیں تو دوسری حکومتوں کوچاہیے کہ وہ ان دونوں پر دباؤ ڈالیںاو ران کے آپس کے اختلافات کو دور کریں اور اگر فیصلہ ہو جانے کے بعد دونوں میں سے کوئی قوم اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دے اور دوسری قوم پر حملہ کر دے تو پھر سب حکومتوں کو چاہیے کہ وہ متحد ہ طور پر اس پر لشکرکشی کریں تا وہ لڑائی سے رک جائے اور اس فیصلہ کو تسلیم کر لے جو مختلف اقوام کے نمائندوں نے کیا ہے اور اگر وہ اپنی غلطی کو تسلیم کر کے لڑائی چھوڑ دے تو صلح کرانے والی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنا پہلا فیصلہ ہی نافذ کریں۔دوسری حکومت سے