تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 106
ایک عورت ہے جو مردوں کے لباس میں ملبوس ہے اور میں نے مناسب نہ سمجھا کہ اس عورت پر وار کروں۔(السیرۃ الحلبیہ غزوہ اُحد)حالانکہ وہ عورت کفار کو لڑائی پر برانگیختہ کر کے کئی مسلمانوں کو نقصان پہنچا چکی تھی مگر اس صحابی نے اسے کچھ نہیں کہا اس لئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت پر تلوار اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔اسی طرح احادیث میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ جنگ کامعائنہ فرما رہے تھے کہ آپ نے ایک عورت کی لاش دیکھی۔صحابہ ؓ کہتے ہیں اس عورت کی نعش دیکھ کر آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا جس نے بھی یہ فعل کیا ہے اس نے ناپسندیدہ فعل کیا ہے ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہیے۔(بخاری کتاب الجہاد باب قتل النساء فی الحرب) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر دشمن کے مقابلہ کے لئے بھجواتے تھے تو اسے ہدایات دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جنگ کرو اور بد دیانتی نہ کرو اور دھوکہ بازی سے کام نہ لو اور نہ کسی دشمن کے اعضاء کاٹو اور نہ کسی نابالغ کو قتل کرو اور نہ عورتوں کو قتل کرو اور نہ عبادت گاہوں میں بیٹھنے والوں کو قتل کرو اور نہ کسی بڈھے کمزور کو قتل کرو اور نہ چھوٹے بچہ کو اور نہ کسی اور بچہ کو اور نہ کسی بھی عورت کو (ابو داؤد کتاب الـجھاد باب فی دعاء المشـرکین) گویا اسلام نے دشمن کے حقوق کو بھی قائم کیا اور اس کے ساتھ بھی انصاف مدّ ِنظر رکھا۔میرے نزدیک اس رحم دلی کی مثال دنیا کے کسی مذہب میں نہیں مل سکتی۔اب تو انٹرنیشنل لاء INTERNATIONAL LAW جاری ہو گیا ہے جس کی بنا پر بہت سے اصول وضع کر لئے گئے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہ سیاسی قواعد ابھی نہ بنے تھے اور کوئی شخص اس نظام کو نہیں جانتا تھا اس وقت کس نے دنیا کو ان زرّیں ہدایات سے نوازا اور کس نے اسے وحشت اور بربریت کے دائرہ سے نکال کر انسانیت اور مؤاخات کا درس دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی باہر جہاد کے لئے جاتے تو حملہ سے پہلے آپ ٹھہر جاتے تاکہ دشمن کو آپ کی آمد کا پتہ لگ جائے اور تا ایسا نہ ہو کہ دشمن سے دھوکا ہو جائے اور اس کی بے خبری میں اس پر حملہ ہو جائے۔چنانچہ آپ صبح ہو جانے پر حملہ کرتے اور اگر دشمن کی طرف سے اذان کی آواز آتی تو حملہ نہ کرتے لیکن اگر اذان کی آواز ادھر سے نہ آتی تب صبح ہو جانے پر حملہ کرتے تاایسا نہ ہو کہ کوئی دوست نقصان اٹھائے( مسلم کتاب الصلٰوۃ باب الامساک عن الاغارۃ علٰی قومٍ) آج کل لوگ شب خون مارتے اور اچانک حملہ کرتے ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کرتے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان بھی بعض دفعہ شب خون مارتے تھے لیکن شب خون مارنے میں وہ پہل نہیں کرتے تھے۔جب دشمن پہل کر دیتا تو جوابی طور پر وہ ایسی کارروائی کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے بہرحال ابتدائی قدم مسلمانوں کی طرف سے نہیں اٹھتا تھا۔کیونکہ