تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 7
دینے اور رحم کرنے کے کیا معنے۔جب تک آپ کو وہ مقام حاصل نہ ہوتا کہ آپ غالب ہو تے اور آپ کا دشمن زیر ہو تا اور پھر آپ رحم کرتے۔اس وقت آپ کی یہ صفت کیسے ثابت ہو سکتی تھی جب آپ کے سا تھ چند آدمی تھے اور وہ بھی کمزور تھے اور ان کی کوئی پوزیشن نہ تھی۔جب وہ اکٹھے ہوکر بیٹھتے تھے تو ان سے کون اندازہ لگا سکتا تھا کہ یہ جماعت لاکھوں لاکھ کی تعداد تک پہنچ جائے گی۔یہ کتنی بڑی خوبی ہے او رکتنا بڑا نشان ہے کہ اس ابتدائی زمانہ میں جب آپ کے اخلاق اور آپ کی کتاب کے مکمل ہو نے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکتا تھا اس وقت یہ کہہ دیا گیا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب یہ ماننا پڑے گاکہ قرآن کریم بھی کوثر ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی کوثر ہیں۔دعویٰءنبوت کے ابتدا میں آپ کے ساتھ خدا تعالیٰ کا سلوک کیا تھا۔صرف چند وحیاں تھیں چند وعدے تھے۔اس وقت یہ کہنا کہ دیکھو خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنا عظیم الشان سلوک کرتا ہےکہاں تک لوگوں کو یقین دلا سکتا تھا اور اس پر کون اعتبار کر سکتا تھا۔آپ کا وجود اس صورت میں اسی وقت پیش کیا جا سکتا تھاجب ساتھ یہ بھی بتایا جاتا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی کیا کیا مدد اور نصرت فرمائی اور یہ کہ خدا تعالیٰ کا معاملہ آپ کے ساتھ کیسا ہے کیا بلحاظ کلام کے اور کیا بلحاظ آپ کے ذاتی جوہر کے۔یہ معاملہ دو قسم کا ہو سکتا تھا۔(۱) خدا تعالیٰ کا براہ راست معاملہ (۲) بندوں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا معاملہ۔یہ سب باتیں جب تک ظاہر نہ ہو تیں اس دعویٰ کی اہمیت ظاہر نہیں ہو سکتی تھی۔خدا تعالیٰ نے ابتدائی زمانہ میں ہی آپ سے یہ کہہ دیا کہ ساری کی ساری بہترین اور بے حساب چیزیں آپ کو ملیں گی۔ہر امرمیں آپ کو کوثر ملے گا۔آپ کی خوبیاں جگمگاتی چلی جائیں گی۔اللہ تعالیٰ بے انتہا کرم کا مظاہرہ کرے گااور آپ کو ایسی کتاب ملے گی جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکے گی۔یہ سب باتیں آپ کی زندگی میں ہی آپ کی ذات میں پو ری ہوئیں اور دوست و دشمن نے اس کی گواہی دی۔یہ اپنی ذات میں کتنا بڑا معجزہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے انبیاء جب دنیا میں آتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اللہ یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ فاتح رہے گا۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی کہا کہ میں فاتح رہوں گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی کہا کہ میں فاتح رہوں گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ میں اپنے دشمنوں پر فتح پاؤں گا۔اسی طرح دوسرے انبیاء علیہم السلام نے بھی دعویٰ کیا کہ وہ اپنے دشمنوں پر فتح پائیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب بھی اس کے مامور آتے ہیں وہ اپنے دشمنوں پر غالب آتے ہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں کفار مکہ اور عرب والوں پر غالب آجاؤں گا بلکہ آپ نے فرمایا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت زیادہ غالب رہوںگا۔میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت بھی زیادہ غالب رہوں گا۔میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی